گیہوں کی برآمد پر پابندی، مودی ہے تو ممکن ہے: کانگریس

بین الاقوامی بازار میں گیہوں کی قیمت بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے ملک میں بھی اس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس کے پیش نظر حکومت نے عوامی مفاد میں اس کی برآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کانگریس نے گیہوں کی برآمد پر پابندی کے حکومتی فیصلہ کو کسان مخالف قدم بتاتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔ پی چدمبرم نےکہا ہے کہ جب ملک میں گیہوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہےہے توپھر اس میں گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔

کانگریس کےترجمان رندیپ سنگھ سرجےوالا نےحکومت کےاس فیصلے کی تنقید کرتےہوئے ٹویٹ کیا ہے۔انہوں نےاپنے ٹویٹ میں لکھاہے ’’ملک میں گیہوں کی خرید کا ہدف 444 لاکھ میٹرک ٹن، ملک میں گیہوں کی خرید ہوئی 178 لاکھ میٹرک ٹن ، ملک میں اس وقت گیہوں کاذخیرہ ہے303 لاکھ میٹرک ٹن ،غریبوں کی اسکیم کے لئےہر سال 435 لاکھ میٹرک ٹن کی ضرورت، گزشتہ چار سالوں میں آٹے کی قیمت میں 42 فیصد کا اضافہ،لیکن مودی حکومت کی سوچ اور راستہ کیا ہے۔14 اپریل 2022 کومودی حکومت کا اعلان کہ حکومت پوری دنیا میں گیہوں بھیجےگی،13 مئی 2022 کو مودی حکومت کا اعلان کہ مودی حکومت نے نو ممالک میں گیہوں کی برامدگی کے لئے وفد بھیجااور 14 مئی کو حکومت نے گیہوں کی برامدگی پر روک لگادی،عجب سرکار کی غضب کہانی،مودی ہےتویہی ممکن ہے۔‘‘


دوسری جانب حکومت نے ہفتہ کو کہا کہ ملک میں گیہوں کی کافی دستیابی ہے اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر اس کی برآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔سوال یہ ہے کہ جب ملک میں گیہوں کی کافی دستیابی ہےتو پھرقیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں اور ایسی صورت میں برامدگی کیوں کی جارہی تھی۔

خوراک کے مرکزی سکریٹری سدھانشو پانڈے، کامرس سکریٹری بی وی آر سبرامنیم اور زراعت کے سکریٹری منوج آہوجا نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ بین الاقوامی بازار میں گیہوں کی قیمت بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے ملک میں بھی اس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس کے پیش نظر حکومت نے عوامی مفاد میں اس کی برآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔ان سینئر عہدیداروں نے کہا کہ گھریلو مارکیٹ میں گندم کی قیمت کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) سے اوپر رہی ہے۔


انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک، خوراک کے بحران کا سامنا کررہے ممالک اور گندم کی برآمدات کے پرانے برآمدی آرڈرز کو پورا کرنے کے لئے برآمد جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ غذائی اجناس کی قیمتیں بھی مارکیٹ کے جذبات پر اثرانداز ہوتی ہیں اور بین الاقوامی منڈی سے گندم کی قیمت میں اضافے کے باعث ملک میں گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اس کی قیمتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ اس کے پیش نظر حکومت نے گندم کی برآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔


مسٹر پانڈے نے کہا کہ اس سال مارچ-اپریل میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے گندم کی پیداوار پر کچھ اثر پڑا ہے لیکن پیداوار میں کسی بڑی کمی کا اندیشہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں گندم کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے اس سال گندم کی سرکاری خریداری میں کچھ کمی رہ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ گندم کی سرکاری خریداری پر پڑنے والے اثرات کے پیش نظر جن ریاستوں میں عوامی تقسیم کے نظام کے تحت گندم اور چاول دونوں تقسیم کیے جاتے تھے، وہاں حکومتوں کی مشاورت سے گندم کی تقسیم میں کمی کرتے ہوئے چاول کا حصہ بڑھایا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔