کانگریس نے دہلی میونسپل کارپوریشن کے ’بجٹ 27-2026‘ کو ’جملہ‘ قرار دیا، دیویندر یادو نے بی جے پی پر کیا حملہ

دیویندر یادو نے الزام لگایا کہ دہلی میونسپل کارپوریشن دنیا کا سب سے بدعنوان بلدیاتی ادارہ بن چکا ہے اور بی جے پی نے بجٹ کے ذریعے اپنے ’بدعنوان نظام‘ کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہلی کانگریس کے لیڈرا، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCDelhi">@INCDelhi</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: دہلی کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے بجٹ 27-2026 کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے ’جملہ بجٹ‘ قرار دیا ہے۔ راجیو بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے بجٹ میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کی ہے اور ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے بے بنیاد اور گمراہ کن اعلانات کیے ہیں۔

دیویندر یادو نے الزام لگایا کہ دہلی میونسپل کارپوریشن دنیا کا سب سے بدعنوان بلدیاتی ادارہ بن چکا ہے اور بی جے پی نے بجٹ کے ذریعے اپنے ’بدعنوان نظام‘ کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی، ایوان کے قائد اور میونسپل کمشنر کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار میں واضح تضاد پایا جاتا ہے، جو بی جے پی کی نیت اور دور اندیشی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق دہلی کے 70 فیصد علاقے کی صفائی کی ذمہ داری ایم سی ڈی پر ہے، جبکہ باقی 30 فیصد نئی دہلی میونسپل کونسل اور دہلی چھاؤنی بورڈ کے تحت آتے ہیں۔


دہلی کانگریس صدر کا کہنا ہے کہ کارپوریشن نے 17,583 کروڑ روپے کا خسارے والا بجٹ پیش کیا ہے، جبکہ آمدنی کا تخمینہ 17,184 کروڑ روپے بتایا گیا ہے۔ روزانہ پیدا ہونے والے 11 ہزار میٹرک ٹن کچرے میں سے صرف 8 ہزار میٹرک ٹن کا ہی نمٹارا ہو پاتا ہے، جس کے باعث روزانہ تقریباً 3 ہزار میٹرک ٹن کچرا سڑکوں، کھلے میدانوں اور کالونیوں کے باہر پڑا رہتا ہے۔ غیر مجاز کالونیوں اور دیہات میں صفائی عملہ نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے حالات ابتر ہو چکے ہیں۔ دیویندر یادو نے مزید کہا کہ میونسپل کمشنر کے مالی اختیارات 5 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ کرنا منتخب نمائندوں کو بے اختیار بنانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کارپوریشن نے کونسلروں کا یومیہ اجلاس بھتہ 300 روپے سے بڑھا کر 3000 روپے کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن مرکزی وزارت داخلہ کی منظوری کے بغیر اس پر عمل درآمد ممکن نہیں۔

اس موقع پر کانگریس کے سابق رکن اسمبلی انل بھاردواج نے کہا کہ ہاؤس ٹیکس میں 30 جون تک ادائیگی پر ملنے والی 15 فیصد رعایت کو کم کر کے 10 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لیے یہ رعایت برقرار رکھی گئی ہے۔ انہوں نے اسے دہلی کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا۔ سابق میئر فرہاد سوری نے بجٹ کے اعداد و شمار میں تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ میونسپل کمشنر نے آمدنی 15,664 کروڑ اور اخراجات 16,530 کروڑ دکھائے، جبکہ اسٹینڈنگ کمیٹی نے آمدنی 17,044 کروڑ اور خرچ 16,797 کروڑ بتایا۔ بعد ازاں ایوان میں پیش بجٹ میں آمدنی 17,184 کروڑ اور خرچ 17,583 کروڑ ظاہر کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کارپوریشن کی واجبات کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا گیا۔


کارپوریشن میں کانگریس کی لیڈر نازیہ دانش نے بجٹ کو ’ہوا ہوائی‘ بتایا اور کہا کہ بی جے پی گزشتہ 15 برسوں اور موجودہ ایک سال کی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صفائی، صحت خدمات، کچرا انتظام، نالوں کی صفائی اور عوامی بیت الخلا کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ ہر وارڈ میں 5 یورینل بنانے کے لیے 50 لاکھ روپے تک کے اعلان کے باوجود عملی طور پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

کانگریس لیڈران نے بی جے پی حکومت کو ہر محاذ پر ناکام بتایا اور الزام عائد کیا کہ بی جے پی کی ’ٹرپل انجن‘ والی حکومت اعلانات تک محدود ہے۔ اپوزیشن پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ ’ٹرپل انجن‘ عوامی مسائل کے حل میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہو رہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔