منی پور بحران: کانگریس کا مودی حکومت پر حملہ، لاپرواہی اور آئینی خلاف ورزیوں کے الزامات

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ بیمول اکوئیجام نے منی پور کی صورتحال پر مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تین سال سے تشدد جاری ہے، حکومت سنجیدہ نہیں اور آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>کانگریس لیڈر بیمول اکوئیجام / ویڈیو گریب&nbsp;</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے دفتر میں منعقدہ ایک پریس بریفنگ کے دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ بیمول اکوئیجام نے منی پور کی صورتحال پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ منی پور گزشتہ 3 برسوں سے مسلسل تشدد اور بدامنی کا شکار ہے مگر حکومت ہند اس ریاست کے ساتھ ایسا سلوک کر رہی ہے جیسے یہ ملک کا حصہ ہی نہ ہو بلکہ کوئی بیرونی خطہ ہو۔

بیمول اکوئیجام نے کہا کہ وزیر اعظم نے 3 سال کے دوران منی پور کا دورہ تک نہیں کیا، حالانکہ وہ مختصر وقت کے لیے امپھال جا کر حالات کا جائزہ لے سکتے تھے۔ ان کے مطابق یہ رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت کو عوام کے دکھ درد کی کوئی فکر نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں بھی کئی افسوسناک اور پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے منی پور کے معاملے پر کوئی سنجیدہ بیان تک نہیں دیا، بلکہ وہ خواتین کے ریزرویشن کے نام پر ایک بل کو آگے بڑھانے میں مصروف رہے۔ بیمول اکوئیجام کے مطابق اس عمل کے ذریعے حد بندی کو استعمال کر کے اقتدار کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی، جس کے نتیجے میں منی پور اور شمال مشرقی ریاستوں جیسے علاقوں کو کمزور کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا اور اسے جمہوری نظام کے لیے ایک خطرہ قرار دیا۔


کانگریس رہنما نے حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے نام نہاد ’بفر زونز‘ پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ان کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں خود اپنی ہی پارلیمانی حلقے میں جانے سے سکیورٹی فورسز نے روک دیا، حالانکہ اس حوالے سے کوئی تحریری یا قانونی حکم موجود نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ آئین کے خلاف اقدام ہے اور شہری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے 7 اپریل کو پیش آئے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ اسی طرح کے ایک بفر زون میں پیش آیا، جہاں قریب ہی پولیس اسٹیشن اور نیم فوجی فورس کی ایک یونٹ موجود تھی، مگر انہوں نے کئی گھنٹوں تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ بیمول اکوئیجام کے مطابق یہ نہ صرف انتظامی ناکامی ہے بلکہ عوامی تحفظ کے نظام پر بھی سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی کانگریس کمیٹی نے کئی اہم مانگیں رکھی ہیں، جن میں بچوں کے قتل کی مکمل جانچ، تشدد میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی، قانون و انتظام کی بحالی، متاثرین کو انصاف اور معاوضہ، اور معاشی پیکیج کا اعلان شامل ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے تمام فریقوں کے درمیان بات چیت شروع کرنے اور عام مردم شماری کو اس وقت تک ملتوی کرنے کی بھی بات کی جب تک شہریوں اور غیر شہریوں کی واضح قانونی تفریق کا نظام قائم نہ ہو جائے۔ بیمول اکوئیجام نے زور دے کر کہا کہ منی پور کے عوام کو انصاف، تحفظ اور معمول کی زندگی کی بحالی کی اشد ضرورت ہے، اور حکومت کو فوری طور پر سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔