منی پور میں حالات ہنوز کشیدہ، کثیر تعداد میں پولیس فورس تعینات، انٹرنیٹ بند ہونے سے لوگوں کو مسائل کا سامنا

وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ نے ریاست میں موجودہ حالات کا جائزہ لینے کے مقصد سے کل جماعتی میٹنگ کی صدارت کی۔ پولیس نے بتایا کہ یہ تب شروع ہوا جب مشتبہ شورش پسندوں نے ایک گھر پر بم پھینک دیا۔

<div class="paragraphs"><p>منی پور کی فائل تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

منی پور میں ایک بار پھر حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ بشنو پور میں بم حملہ کے بعد پیدا تشدد کی لہر نے صورتحال کو انتہائی نازک بنا دیا ہے۔ ایک سینئر افسر نے موجودہ حالات کے بارے میں بتایا کہ منی پور کے 5 وادی اضلاع میں حالات کشیدہ ہیں لیکن امن برقرار ہے۔ یہاں ایک دن قبل ہونے والے بم حملہ کے بعد تشدد پھوٹ پڑا تھا، جس کے نتیجہ میں 2 بچوں کی موت ہو گئی تھی۔ پھر بگڑتے حالات کو دیکھتے ہوئے ان اضلاع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا، انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئیں اور بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی۔ انٹرنیٹ معطل ہونے سے عام لوگوں کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

افسر نے بتایا کہ بدھ کی صبح کسی نئے تشدد کی خبر نہیں ملی ہے، لیکن منگل کی دیر شب امپھال مشرقی اور مغربی اضلاع کے کچھ علاقوں میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہو گیا تھا۔ اس کے باعث مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو آنسو گیس کے گولے بھی داغنے پڑے۔


2 بچوں کی موت سے مشتعل مظاہرین نے امپھال مشرقی ضلع کے خورائی لاملونگ اور وانگ کھئی میں، اور امپھال مغربی ضلع کے اریپوک اور کواکیتھل میں سڑکوں پر ٹائر جلائے۔ انہوں نے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جو دونوں بچوں کے قتل میں ملوث تھے۔ افسر نے بتایا کہ ’’رات بھر جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد حالات پر قابو پا لیا گیا ہے۔ آج صبح کسی نئے تشدد کی خبر نہیں ملی ہے۔ مجموعی طور پر حالات پُرسکون ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ امپھال مشرقی، امپھال مغربی، بشنوپور، تھوبل اور کاکچنگ اضلاع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب پولیس نے بتایا کہ منگل کو منی پور کے بشنو پور ضلع میں تشدد اس وقت بھڑک اٹھا جب پھینکے گئے بم کے باعث 2 بچوں کی اپنے گھر میں ہی موت ہو گئی، جبکہ اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سی آر پی ایف کیمپ پر حملہ کرنے والی بھیڑ میں شامل 2 دیگر افراد کو گولی مار دی گئی۔ لوگوں کے ایک گروہ نے بم حملہ کے خلاف احتجاج میں 2 تیل ٹینکرس اور ایک ٹرک کو آگ لگا دی۔ ایک پولیس چوکی میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی اور اہم سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت روک دی گئی۔


اس دوران وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ نے ریاست میں موجودہ حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کل جماعتی اجلاس کی صدارت کی۔ حالات کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ یہ سب اس وقت شروع ہوا جب مشتبہ شورش پسندوں نے موئیرانگ ترونگلاوبی میں ایک گھر پر بم پھینک دیا۔ یہ واقعہ منگل کی صبح سویرے پیش آیا جب گھر کے تمام افراد سو رہے تھے۔ اس حملہ میں 5 سالہ ایک لڑکا اور اس کی 6 ماہ کی بہن ہلاک ہو گئے، جبکہ والدہ زخمی ہو گئیں۔

بمباری کے واقعہ سے ناراض تقریباً 400 افراد کے ہجوم نے سی آر پی ایف کیمپ پر حملہ بول دیا۔ جواب میں سیکورٹی فورسز کو فائرنگ کرنی پڑی، جس میں 2 افراد ہلاک اور تقریباً 20 دیگر زخمی ہو گئے۔ مظاہرین سیکورٹی فورسز سے ناراض تھے کیونکہ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔