’سب جانتے ہوئے سی بی آئی-ای ڈی نے کارروائی کیوں نہیں کی؟‘، رافیل ڈیل میں بدعنوانی کے نئے انکشاف پر کانگریس کا سوال

کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے سوال کیا ہے کہ مودی حکومت اور سی بی آئی نے گزشتہ 36 مہینوں سے بدعنوانی کے ثبوتوں پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟ اس معاملے کو کیوں دبایا گیا؟

پون کھیڑا، تصویر یو این آئی
پون کھیڑا، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان اور فرانس کے درمیان ہوئے رافیل جنگی طیارہ سودے میں بدعنوانی کے تازہ انکشافات پر کانگریس نے مودی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ کانگریس نے ’میڈیاپارٹ‘ کے انکشافات کا حوالہ دیتے ہوئے ثبوت ہونے کے باوجود سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں ہونے پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

ایک دن قبل فرانس کی ویب سائٹ ’میڈیاپارٹ‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ فرانسیسی کمپنی دیسالٹ ایویشن نے 36 جنگی طیاروں کے سودے کے لیے ایک بچولیے کو 7.5 ملین یورو کمیشن دیا تھا۔ اسی کو بنیاد بناتے ہوئے منگل کو کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ مودی حکومت کے ذریعہ ’رافیل ڈیل‘ میں بدعنوانی ایک بار پھر ظاہر ہو گئی ہے۔ بی جے پی کی حکومت نے ہندوستانی فضائیہ کے مفادات کو خطرے میں ڈال کر ملک کے خزانے کو ہزاروں کروڑ کا نقصان پہنچایا ہے۔


کانگریس کا کہنا ہے کہ ’آپریشن کور-اَپ‘ کے جدید انکشاف سے رافیل بدعنوانی کو دبانے کا پتہ چلتا ہے۔ 4 اکتوبر 2018 کو بی جے پی کے دو سابق مرکزی وزرا اور ایک سینئر وکیل نے رافیل سودے میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا حوالہ دیتے ہوئے ڈائریکٹر، سی بی آئی کو شکایت سونپی تھی۔ 11 اکتوبر 2018 کو ماریشس حکومت نے اپنے اٹارنی جنرل کے ذریعہ سے رافیل سودے سے جڑے کمیشن کی مبینہ ادائیگی کے تعلق سے سی بی آئی کو دستاویزوں کی فراہمی کی تھی۔

پون کھیڑا نے کہا کہ 23 اکتوبر 2018 کو مرکزی حکومت کی ایک کمیٹی نے سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما کو درمیانی شب میں ہی ہٹا دیا، دہلی پولیس کے ذریعہ سے سی بی آئی ہیڈکوارٹر پر چھاپہ ماری کی گئی، جس کے بعد ایم ناگیشور راؤ کو سی بی آئی چیف مقرر کیا گیا۔ یہ سی بی آئی کے ذریعہ سے رافیل ڈیل میں کی گئی بے ضابطگی تھی۔


کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ مودی حکومت اور سی بی آئی نے گزشتہ 36 مہینوں سے بدعنوانی کے ثبوتوں پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟ اس معاملے کو کیوں دبایا گیا؟ مودی حکومت نے درمیانی شب میں سی بی آئی چیف کو کیوں ہٹایا؟ انھوں نے مرکزی حکومت سے سوال کیا کہ ہندوستان میں ٹیکنالوجی منتقلی کے بغیر انہی 36 طیاروں کے لیے 41205 کروڑ روپے اضافی کیوں دے رہے ہیں؟ جب 126 طیاروں کا لائیو بین الاقوامی ٹینڈر تھا تو وزیر اعظم یکطرفہ 36 طیارہ ’آف دی شیلف‘ کیسے خرید سکتے تھے؟

پون کھیڑا نے کہا کہ فرنچ نیوز پورٹل ’میڈیاپارٹ‘ نے حیران کرنے والے انکشافات کے تازہ سیٹ میں ظاہر کیا ہے کہ کس طرح بچولیے سوشن گپتا نے 2015 میں ہندوستان کی وزارت دفاع سے ہندوستانی مذاکرہ ٹیم (آئی این ٹی) سے متعلق خفیہ دستاویزوں کو ہندوستان کے رخ کی تفصیل دیتے ہوئے پکڑا تھا۔ کیا یہ درست نہیں ہے کہ ای ڈی نے 26 مارچ 2019 کی چھاپہ ماری میں بچولیوں سے خفیہ وزارت دفاع کے دستاویزات برآمد کیے ہیں؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔