بی جے پی جنرل سکریٹری نے ’جے این یو‘ کا نام بدلنے کا کیا مطالبہ، کانگریس ناراض

کانگریس ترجمان اجے ماکن کا کہنا ہے کہ ’’جے این یو کا نام بدلنے کی جگہ سوامی وویکانند کے نام پر دہلی میں اس سے بھی بہتر یونیورسٹی قائم کرنا چاہیے۔‘‘

اجے ماکن اور سی ٹی روی، تصویر آئی اے این ایس
اجے ماکن اور سی ٹی روی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ہندوستان کی راجدھانی دہلی میں موجود مشہور و مقبول جواہر لال نہرو یونیورسٹی، یعنی جے این یو کا نام بدلنے کے مطالبہ نے زور پکڑ لیا ہے۔ بی جے پی جنرل سکریٹری سی ٹی روی نے اس یونیورسٹی کا نام بدل کر سوامی وویکانند کے نام پر رکھنے کی وکالت کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پی ایم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں جے این یو میں سوامی وویکانند کے مجسمے کی رونمائی کی تھی جس کے بعد بی جے پی جنرل سکریٹری کے مطالبے کو کافی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ کانگریس نے جے این یو کا نام بدلنے کے مطالبہ پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔

بی جے پی جنرل سکریٹری روی کے مطالبہ پر کانگریس کے سینئر لیڈر اور ترجمان اجے ماکن کا کہنا ہے کہ ’’نام بدلنے کی سیاست میں ہم کبھی بھی یقین نہیں رکھتے، اور ایک شخص کا نام بدل کر دوسرے شخص کے نام پر رکھنے سے میں سمجھتا ہوں کہ کوئی شخص چھوٹا نہیں ہوتا ہے، اور کوئی شخص بڑا بھی نہیں ہوتا ہے۔‘‘ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’ادارہ (جے این یو) کا نام بدلنے کی جگہ سوامی وویکانند کے نام پر دہلی میں اس سے بھی بہتر یونیورسٹی قائم کرنا چاہیے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں شہروں، ریلوے اسٹیشنوں اور یونیورسٹیوں کا نام بدلے جانے کو لے کر سیاست تیز ہوئی ہے۔ الٰہ آباد کا نام بدل کر جب سے پریاگ راج رکھا گیا ہے، تبھی سے الٰہ آباد یونیورسٹی کا نام بھی بدلنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا اور کہہ دیا کہ یونیورسٹی کے نام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ اس وقت صرف الٰہ آباد ہائی کورٹ اور الٰہ آباد یونیورسٹی ہی ہیں جن کا نام نہیں بدلا گیا ہے، ورنہ شہر میں سبھی چیزوں کے نام بدل گئے ہیں۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ بمبئی، کلکتہ اور مدراس یونیورسٹی کے نام بھی شہروں کے نام بدلنے کے باوجود نہیں بدلے گئے اور آج تک اسی نام سے چل رہی ہیں۔

ویسے تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو کئی یونیورسٹیاں ایسی ضرور ہیں، جن کے نام بدلے گئے ہیں، لیکن ایسا موقع ابھی تک نہیں آیا جب کسی عظیم شخصیت کے نام پر کوئی یونیورسٹی چل رہی ہو، اور اسے بدل کر کسی دوسری عظیم شخصیت پر رکھا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی جنرل سکریٹری کے مطالبہ کو لوگ سیاست سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ جہاں تک یونیورسٹی کے ناموں کی تبدیلی کا معاملہ ہے، بہار یونیورسٹی کا نام بدل کر بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر بہار یونیورسٹی کیا جا چکا ہے، علی گڑھ میں محمڈن اینگلو-اورینٹل کالج کا نام آگے چل کر ’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘ رکھا گیا، اسی طرح بنارس ہندو یونیورسٹی کا نام بدل کر ’کاشی ہندو وشوودیالیہ‘ رکھا گیا۔ لیکن ان میں سے کہیں بھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ کسی عظیم شخصیت کے نام پر چل رہی یونیورسٹی کا نام بدلنے کی کوشش ہوئی ہو۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 18 Nov 2020, 4:40 PM
next