کانگریس نے مودی حکومت پر پھر لگایا پبلک پراپرٹی کو فروخت کرنے کا الزام

سابق مرکزی وزیر اجے ماکن نے الزام لگایا کہ مودی حکومت عوام کی کمائی سے گزشتہ 60 سالوں میں بنائے گئے پبلک پراپرٹی کو کرائے کے بھاؤ پر فروخت کرنے پر آمادہ ہے۔

اجے ماکن، تصویر@INCUttarPradesh
اجے ماکن، تصویر@INCUttarPradesh
user

یو این آئی

لکھنؤ: مرکز کی نیشنل منیٹائزیشن پائپ لائن اسکیم پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری و سابق مرکزی وزیر اجے ماکن نے الزام لگایا کہ مودی حکومت عوام کی کمائی سے گزشتہ 60 سالوں میں بنائے گئے پبلک پراپرٹی کو کرائے کے بھاؤ پر فروخت کرنے پر آمادہ ہے۔ ماکن نے منگل کو پریس کانفرنس میں کہا کہ سب سے چونکانے والی اور شبہ میں ڈالنے والی بات یہ ہے کہ یہ سبھی کچھ خفیہ طریقے سے طے کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اس فیصلہ کا اعلان بھی اچانک کیا گیا جس سے حکومت کی نیت پر شک مزید گہرا ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی کئی تقریروں کا مرکزی نکتہ انفرااسٹرکچر کا فروغ رہا ہے۔ اس معاملے میں این ڈی اے کا ریکارڈ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے مقابلے خراب رہا ہے۔ سال 2012 سے سال 2017 کے درمیان 12ویں اسکیم کال کے دوران انفرااسٹرکچر کی بنیاد میں سرمایہ کاری کا 36لاکھ کروڑ روپئے کا تخمینہ ہے یہ جی ڈی پی کا 5.8 فیصدی ہے۔ مالی سال 2018 اور 2019 میں یہ تخمینہ دس ہزار کروڑ روپئے پر آگیا اس دوران اوسطاً 7.20 لاکھ کروڑ سالانہ انفراسٹرکچر کی بنیاد سازی پر سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ یہ این ڈی اے حکومت میں 5لاکھ کروڑ روپئے پر آگیا ہے۔ اس سے شبہ کو تقویت ملتی ہے اور حکومت کا مقصد انفراسٹرکچر کو بہتر کرنا نہیں بلکہ کچھ چنندہ کاروباری دوستوں کو ان کے کاروبکار اور تجارت میں یک طرفہ مواقع فراہم کرنا ہے۔


اجے ماکن نے کہا کہ اس اسکیم کے بارے میں چنندہ کمپنیوں کی مرضی قائم ہوجائے گی۔ حکومت بھلے کہتی رہے گی کہ نگرانی کے سو طرح کی تراکیب ہیں اس کے لئے ریگولیٹر ادارے ہیں لیکن سچ اس کے برخلاف ہے۔ یہ سیمنٹ کے شعبے میں دیکھ سکتے ہیں جہاں پر دو تین کمپنیوں کی اجارہ داری ہے وہی بازار میں قیمت طے کرتے ہیں، حکومت کے تمام ریگولیٹر اتھارٹی اور وزارت ان کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں اس سے مختلف شعبوں میں قیمت کا تعین اور خفیہ تعلقات میں اضافہ ہوگا۔

اس طر ح کے حالات انگلینڈ بینکنگ کے شعبے میں دیکھ چکا ہے۔ اس معاملے میں ہم امریکہ سے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں جو فیس بک، گوگل اور امیزون جیسے اداروں پر کنٹرول کے لئے مختلف طرح کے اصول اور قوانین وضع کررہا ہے اس میں ان کی پارلیمنٹ اور سبھی لیڈر ایک ساتھ نظر آتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کمپنیوں کا بازار پر اجارہ داری ہے۔ اسی طرح کے حالات چین میں بھی ہیں وہاں پر کچھ ٹیک کمپنیوں پر شکنجہ کسنے کے لئے چین حکومت کئی طرح کے قدم اٹھا رہی ہے۔ جنوبی کوریا بھی اپنے یہاں پر اسی طرح سے اجارہ داری کے خلاف کام کر رہا ہے لیکن ہندوستان میں حالات اس کے برخلاف نظر آرہے ہیں۔


یہاں پر مودی حکومت کچھ چنندہ کمپنیوں کو اجارہ داری کا راستہ خود بنا کر دے رہی ہے۔ اگر حکومت کی بات مانی بھی جائے کہ کسی شعبے میں دو یا تین کمپنیاں ہوں گی اس کے بعد بھی ان کے درمیان گٹھ جوڑ کو کیسے حکومت روک پائے گی۔ جب چنندہ کمپنیاں بازار میں رہیں گی تو گٹھ جوڑ اور قیمت میں اضافہ ہونا یقینی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔