بی جے پی لیڈران کو اعتماد، فڈنویس سپریم کورٹ پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں: سچن ساونت

بی جے پی لیڈران کا یہ کہنا ہے کہ مراٹھا ریزرویشن اسی صورت میں مل سکے گا جب دیویندر فڈنویس اقتدار میں ہوں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ارنب گوسوامی بھی فڈنویس سے مشورہ کرتے ہیں؟

سچن ساونت، تصویر آئی اے این ایس
سچن ساونت، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ممبئی: گزشتہ 6 سال سے ’مودی ہے تو ممکن ہے‘ کی سوچ کے تحت آئینی اداروں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس سوچ کی بنیاد پر بی جے پی لیڈران میں جو اعتماد پیدا ہوا ہے وہ جمہوریت کے تئیں خدشات میں اضافہ کرتا ہے۔ نیز بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ ادین راجے بھوسلے نے مراٹھا ریزرویشن سے متعلق جو بیان دیا ہے وہ انتہائی متنازعہ اور قابل اعتراض ہے۔ مراٹھا ریزرویشن کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہونے کے باجود ادین راجے کا یہ کہنا کہ دیویندرفڈنویس کو اقتدار سونپیے تو وہ مراٹھا ریزرویشن دلادیں گے، انتہائی قابل اعتراض ہے۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری و ترجمان سچن ساونت نے کہی ہیں۔

اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے سچن ساونت نے کہا کہ اس وقت مراٹھا ریزرویشن کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، ریاستی حکومت نے ایک بنچ تشکیل دینے کے لئے چار بار سپریم کورٹ میں درخواست دی ہے۔ تاہم ابھی تک بنچ تشکیل نہیں دی گئی ہے۔ مہاراشٹر وکاس اگھاڑی حکومت مراٹھا برادری کو ریزرویشن دینے کے لئے پابند عہد ہے، جس کے لیے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے ماہر وکلا کی ایک پوری ٹیم کام کر رہی ہے۔ ایسی صورت میں جبکہ ریاستی حکومت اس ضمن میں اپنی تمام تر کوششیں کر رہی ہے، کچھ لوگ قصداً عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ ادین راجے بھوسلے کے بیان سے بی جے پی لیڈران کو ایسا لگتا ہے کہ فڈنویس سپریم کورٹ پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں جو انتہائی حیران کن ہے۔ بی جے پی لیڈران کا یہ کہنا ہے کہ مراٹھا ریزرویشن اسی صورت میں مل سکے گا جب دیویندر فڈنویس اقتدار میں ہوں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ارنب گوسوامی بھی فڈنویس سے مشورہ کرتے ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ 2014 میں مودی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے آئین وجمہوریت کے تمام اصول بالائے طاق رکھے جا رہے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے خود مختار ادارے حکومت کی کٹھ پتلی بن چکے ہیں۔ لیکن عوام کو عدلیہ پر ابھی بھی اعتماد ہے، لیکن بی جے پی کے لوگ اگر یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم عدلیہ پر بھی اثرانداز ہوکر جیسا چاہیے ویسا فیصلہ کرا سکتے ہیں تو یہ انتہائی تشویشناک ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next