دہلی وقف بورڈ کے حالات دگرگوں، ملازمین کا پیمانہ صبر لبریز، ہڑتال شروع

9 ماہ سے تنخواہ نہ ملنے سے وقف بورڈ کا عملہ پریشان، انتظامیہ اور حکومت کو کئی مرتبہ کر چکے ہیں آگاہ، بورڈ انتظامیہ اور ممبران کی جانب سے جھوٹی تسلیوں اور وعدوں کے سوا کچھ نہیں ملا: بورڈ ملازمین

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی وقف بورڈ میں گزشتہ کئی ماہ سے چیئرمین نہ ہونے کی وجہ سے حالات دگرگوں ہوتے جارہے ہیں اور اب نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ مہینوں سے بنا تنخواہ کے کام کرنے والے بورڈ عملہ کا پیمانہ صبر بھی لبریز ہوگیا ہے۔ گزشتہ 9 ماہ سے بنا تنخواہ کے کام کرنے والے وقف بورڈ کے عملہ کی ہمت بھی بورڈ انتظامیہ کی جانب سے دلاسے اور تسلیوں کے بعد اب جواب دے چکی ہے۔ مہنوں سے اپنی تنخواہ کے انتظارمیں بورڈ ملازمین نے آخر میں تھک ہار کر اسٹرائک پر جانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اب 5 نومبر سے وہ دہلی وقف بورڈ دریا گنج واقع آفس کے باہر اپنے مطالبات کی حمایت میں دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں۔ جس سے وقف بورڈ کے انتظامی معاملات اور روز مرہ کے کام کاج میں مزید ابتری کا اندیشہ ہے جو چیئرمین کے نہ ہونے کی وجہ سے پہلے ہی سست روی کا شکار ہے۔

تفصیل کے مطابق دہلی وقف بورڈ کے 150سے زائد اسٹاف کو گزشتہ تقریباً 9 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ جبکہ وقف بورڈ کے ماتحت آنے والے کئی سو امام اور موذن بھی کئی ماہ سے بورڈ کی جانب سے دیئے جانے والے اعزازیہ سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے ان کے گھروں میں فاقہ کشی کے حالات ہیں۔بہت سارے امام ایسے ہیں جو دور دراز کے علاقوں میں غیر مسلم آبادی میں آباد مساجد میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں تاہم انھیں اپنے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے، جبکہ ایک بڑی تعداد ایسے امام اور موذنوں کی ہے جو اب تک قرض لیکر کسی طرح اپنے گھر میں چولہا جلا رہے ہیں مگر اب قرض کی ادائیگی کے تقاضے بھی ہونے لگے ہیں۔


بعض اماموں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں دہلی وقف بورڈ کے کبھی ایسے حالات نہیں دیکھے۔وقف بورڈ سے ایک ہزار کے قریب ایسے ضرورتمندوں کی بھی مدد کی جاتی ہے جن کے گھروں میں کوئی کمانے والا نہیں ہے اور وہ بیوائیں، مطلقہ خواتین، مریض یا معاشرہ کے نادار اور ضرورتمند لوگ ہیں، جنھیں وظیفہ کے نام پر وقف بورڈ سے ماہانہ ڈھائی ہزار روپئے دیئے جاتے رہے ہیں، مگر اب جبکہ بورڈ خود محتاج ہوگیا ہے ایسے میں اس طبقہ کی بھی مدد نہیں ہو پا رہی ہے اور روز بڑی تعداد میں یہ ضرورتمند وقف بورڈ کے دفتر سے خالی ہاتھ اور نامراد واپس لوٹ جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کئی ضرورتمند تو ایسے ہیں جو رو رو کر اپنا درد سناتے ہیں مگر تکنیکی اور انتظامی پیچیدگیوں کا شکار ہونے کی وجہ سے وقف بورڈ کا عملہ ایسے افراد کی مدد کرنے سے قاصر ہے۔ کل ملاکر تقریباً ڈیڑھ ہزار خاندان ایسے ہیں جن کے گھروں میں نہ صرف فاقہ کشی کی نوبت ہے بلکہ چولہا جلنا دوبھر ہوگیا ہے، اوپر سے تنخواہ کی امید پر لیا گیا قرض بھی واپس کرنے کے لالے پڑگئے ہیں اور اب لیے گئے قرضوں کے تقاضے شروع ہوگئے ہیں۔ بورڈ عملہ میں بہت سے ایسے ملازمین ہیں جو کرایہ پر مکان لیکر رہتے ہیں مگر اب کئی کئی ماہ کا کرایہ جمع ہوگیا ہے اور مالک مکان گھر خالی کرنے کا دباو بنا رہے ہیں۔


غور طلب ہے کہ یہ تمام وہ ملازمین ہیں جنہوں نے سال کے شروع میں دہلی کے شمال مشرقی علاقہ میں ہونے والے فسادات میں متاثرین کے لئے دن رات ایک کرکے کام کیا۔ کئی کئی دن تک گھر نہیں گئے اور اب کئی ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کے باوجود روزانہ پابندی سے آفس آرہے ہیں اور کروڑوں کی وقف جائداد کی حفاظت کر رہے ہیں، مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان ملازمین کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟

ذرائع کے مطابق 20 اکتوبر کو تمام ملازمین نے وقف بورڈ کے سی ای او اور تمام بورڈ ممبران کو مطالبات پرمشتمل اپنی ایک تفصیلی عرضداشت پیش کی تھی، جس کی ایک کاپی وزیر اعلی اروند کیجریوال کو بھی بھیجی گئی تھی۔ اس عرضداشت میں انتباہ دیا گیا تھا کہ اگر ان کے مطالبات حل نہ ہوئے تو وہ 28 اکتوبر سے اسٹرائک پر چلے جائیں گے۔


تاہم وقف بورڈ کے ممبران کے ایک وفد نے ایک ہفتہ کی مہلت مانگتے ہوئے مطالبات کے حل کی یقین دہانی کرائی تھی اور اسٹرائک پر نہ جانے کی درخواست کی تھی جس کے بعد ملازمین کی جانب سے اسٹرائک کو موخر کردیا گیا تھا مگر بورڈ ممبران کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانی جھوٹی ثابت ہوئی اور ملازمین کی تنخواہوں کا ابھی تک کوئی حل نہیں نکلا، جس کے بعد ملازمین نے 5 نومبر یعنی آج سے غیر معینہ مدت کے لئے ہڑتال پر جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔