شمالی ہندوستان میں پھر آئے گی سرد لہر

آئی ایم ڈی کے مطابق پنجاب، ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی-این سی آر اور راجستھان میں 24-26 جنوری کے درمیان کم از کم درجہ حرارت 0 سے 5 ڈگری سیلسیس گرنے کا امکان ہے اس طرح سردی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر: قومی آواز</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

میدانی علاقوں میں چلنے والی سرد اور خشک ہواؤں کی وجہ سے شمالی ہندوستان کے بڑے حصے میں سردی کی نئی لہر کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق 15 سے 35 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ شمال مغربی ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے جس کی وجہ سے کئی شمالی ریاستوں میں رات کے درجہ حرارت میں تیزی سے گراوٹ آئے گی۔

آئی ایم ڈی کی پیشن گوئی کا حوالہ دیتے ہوئے ایک آزاد مبصرموسمیات کی جانب سے سوشل میڈیا پرشیئر کی گئی موسم کی تازہ رپورٹ کے مطابق 24 اور 26 جنوری کے درمیان پنجاب، ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی-این سی آر اور شمال مغربی راجستھان کے بیشتر شہروں میں کم سے کم درجہ حرارت 0 سے 5 ڈگری سیلسیس تک کم ہونے کی توقع ہے۔


انہوں نے بتایا کہ دن میں دھوپ نکلنے کے باوجود اس عرصے کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 13 سے 17 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ دریں اثنا آئی ایم ڈی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 24 اور 25 جنوری کو مغربی ہمالیائی خطے میں برف باری کی سرگرمیاں کم ہو کر بکھری ہوئی یا ہلکی بارش میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔

دوسری طرف محکمہ موسمیات کے مطابق 27 جنوری سے شمال مغربی ہندوستان میں بارش کا ایک نیا دور شروع ہونے کا امکان ہے جس سے 27 جنوری کو مغربی ہمالیائی علاقے میں شدید بارش اور برف باری ہوگی۔ 28 جنوری کو ہلکی بارش ہوسکتی ہے۔ اسی دوران محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش میں 27 جنوری کو الگ الگ مقامات پر شدید بارش اور برفباری کا امکان ہے، جبکہ اسی دوران شمال مغربی میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش ہوسکتی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شمال مغربی ہندوستان میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کم سے کم درجہ حرارت میں 3 سے 5 ڈگری سیلسیس کی کمی آنے کی توقع ہے۔ آئی ایم ڈی نے یہ بھی بتایا کہ 24 اور 26 جنوری کے درمیان پنجاب، ہریانہ اور چندی گڑھ کے کچھ علاقوں میں شدید کہرا پڑسکتا ہے جبکہ اسی مدت کے دوران ہماچل پردیش، راجستھان اور مدھیہ پردیش کے کچھ حصوں میں بھی شدید کہرے کا سامنا کیا جاسکتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔