’بارش اور وبا کے وقت دہلی چھوڑ جے پور میں چھٹیاں منا رہے وزیر اعلیٰ کیجریوال‘

دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر انل کمار نے کہا کہ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ایک بار پھر شہر اور لوگوں کو بھگوان بھروسے چھوڑ دیا ہے۔

چودھری انل کمار (کانگریس)
چودھری انل کمار (کانگریس)
user

قومی آوازبیورو

دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری انل کمار نے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے جے پور دورہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ایک بار پھر شہر اور لوگوں کو بھگوان بھروسے چھوڑ دیا ہے۔ چودھری انل کمار نے کہا کہ دو گھنٹے کی مانسونی بارش نے راجدھانی کو پوری طرح سے غرقاب کر دیا، جس سے گھنٹوں ٹریفک جام کی حالت پیدا ہو گئی۔ ساتھ ہی دہلی کے بیچوں بیچ لودی روڈ پر لوگوں کو سیلاب والی سڑکوں کو پار کرنے کے لیے کشتی کا استعمال کرنا پڑا۔

بدھ کے روز ڈی پی سی سی دفتر راجیو بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چودھری انل کمار نے کہا کہ ’’کیجریوال 10 روزہ ذہنی سکون کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ ایسے وقت میں جب بدامن نظامِ قانون کی حالت اور مانسون کی بارش کے سبب راجدھانی میں ان کی موجودگی کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ قومی راجدھانی میں اس وقت قہر برپا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’آفیشیل ذرائع کا کہنا ہے کہ دہلی میں ہر دن کم از کم چھ عصمت دریاں ہوتی ہیں۔ غریب لڑکیاں عام طور پر شکار بن رہی ہیں۔ یہ ایک سنگین فکر کا موضوع بن گیا ہے، کیونکہ غریب نابالغ لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری اور خواتین پر حملے بار بار ہونے والی خصوصیات بن گئی ہیں۔‘‘


چودھری انل کمار نے الزام عائد کیا کہ دہلی میں لوگ بے روزگاری، آسمان چھوتی قیمتوں، بگڑتے نظامِ قانون کی حالت، 1000 نئی ڈی ٹی سی بسوں کی خرید اور رکھ رکھاؤ معاہدہ میں 4000 کروڑ روپے کی بدعنوانی، مانسون میں آبی جماؤ کے مسئلہ، شہری بنیادی ڈھانچے کی گراوٹ سے متاثر ہیں۔ کووڈ-19 وبا کا قہر بھی ہے جس نے ہر فیملی کو متاثر کیا ہے۔‘‘

دہلی پردیش کانگریس کمیٹی صدر نے کہا کہ کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران وہ (کیجریوال) 24 مارچ سے 18 جون 2021 تک تین مہینے تک اپنے گھر پر رہے۔ دوسری لہر کے دوران انھوں نے کووڈ کی لڑائی کی قیادت کرنے کے لیے باہر آنے کی جگہ خود کو گھر پر ہی محدود کر لیا۔ 4 سے 18 اپریل تک، جب کووڈ-19 نے ایک سنگین موت کا قہر مچایا، جس میں آکسیجن کی کمی نے کئی ہزار لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈالی، اب ماہرین کے ذریعہ کووڈ وبا کی تیسری لہر کی تنبیہ کے ساتھ، وزیر اعلیٰ نے اپنے ذہنی سکون کو ترجیح دی ہے، نہ کہ لوگوں کی زندگی کو۔ چودھری انل کمار نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ دہلی بھر میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانا ایک بڑا گھوٹالہ ہے، کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ اس سے سی سی ٹی وی کیمرے لگانے والے ٹھیکہ داروں اور عام آدمی پارٹی کو فائدہ ہوا ہے، جنھوں نے اس پروجیکٹ میں رشوت لی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔