جموں و کشمیر کے رام بن میں بادل پھٹنے سے تباہی، 3 ہلاک، متعدد مکانات کو نقصان، ریسکیو جاری
جموں و کشمیر کے رام بن ضلع کے راج گڑھ میں بادل پھٹنے اور شدید بارش سے آئے پانی کے ریلوں میں 3 افراد ہلاک، 4 لاپتہ اور کئی مکانات تباہ ہو گئے۔ ریسکیو ٹیمیں سرگرم، متاثرین کے لیے ریلیف کیمپ قائم

جموں و کشمیر ایک بار پھر قدرتی آفت کی لپیٹ میں ہے۔ رام بن ضلع کے راج گڑھ علاقے میں جمعہ کی شب شدید بارش اور بالائی علاقوں میں بادل پھٹنے کے نتیجے میں اچانک پانی کے ریلے آ گئے، جس نے مقامی آبادی کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا۔ اس سانحے میں کم از کم 3 افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ 4 افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ کئی مکانات اور ڈھانچے پانی کے تیز ریلے میں بہہ گئے، جس کے باعث درجنوں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق متاثرہ علاقے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ کچھ مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے، جب کہ کھیت اور باغات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ فورس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور راحت و بچاؤ کا کام شروع کر دیا۔ ریسکیو ٹیمیں مسلسل سرچ آپریشن چلا رہی ہیں تاکہ لاپتہ افراد کو تلاش کیا جا سکے۔ انتظامیہ نے فوری طور پر متاثرہ خاندانوں کے لیے عارضی ریلیف کیمپ قائم کیے ہیں، جہاں کھانے پینے اور رہائش کا انتظام کیا گیا ہے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ مسلسل بارش کے سبب ندی نالوں کا پانی خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے اور مزید بربادی کا خدشہ ہے۔ مقامی لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ چوکس رہیں اور نشیبی علاقوں سے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں۔
قابل ذکر ہے کہ اگست 2025 جموں و کشمیر کے لیے سب سے کٹھن مہینوں میں شمار ہو رہا ہے۔ اس مہینے کے دوران متعدد بار بادل پھٹنے اور پانی کے ریلے آنے کے واقعات رونما ہوئے، جنہوں نے خاص طور پر جموں خطے میں شدید تباہی مچائی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ ہفتے میں ہونے والی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ میں 36 سے زیادہ افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ ریاسی اور ڈوڈہ اضلاع میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔
اس سے پہلے 14 اگست کو کشتواڑ ضلع کے چشوتی گاؤں میں بادل پھٹنے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں تقریباً 60 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ یہ علاقہ ویشنو دیوی یاترا کے راستے پر واقع ہے اور 9 ہزار فٹ کی بلندی پر بسا ہے۔ اس حادثے میں یاتریوں کے کیمپ، مقامی مکانات اور کئی پل پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گئے تھے۔
ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر میں ماحولیاتی تغیرات (کلائمیٹ چینج) کے سبب ایسی قدرتی آفات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ مسلسل بھاری بارش، زمین کھسکنے اور محدود علاقوں میں اچانک پانی کے ریلے آنے سے جانی و مالی نقصان بڑھ رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ حالات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید امدادی ٹیمیں بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔
فی الحال رام بن اور قریبی اضلاع میں الرٹ جاری ہے اور مقامی باشندوں سے کہا گیا ہے کہ وہ انتظامیہ کے احکامات پر عمل کریں تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔