کشمیر پریس کلب کو بند کرنا کشمیر میں آزاد صحافت کو سلب کرنے کے مسلسل عمل کا حصہ: نیشنل کانفرنس

نیشنل کانفرنس ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا کہ کشمیر پریس کلب کو بند کرنے میں انتظامیہ اور مقامی پولیس کا رول کشمیر میں آزاد صحافت اور جمہوریت کو سلب کرنے کے مسلسل عمل کا حصہ ہے۔

عمران نبی ڈار (تصویر سوشل میڈیا)
عمران نبی ڈار (تصویر سوشل میڈیا)
user

یو این آئی

سری نگر: جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے کشمیر پریس کلب پر زبردستی قبضے اور اس کے بعد بند کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام جمہوری نظام کو ختم کرنے کا تازہ ترین سنگ میل ہے۔ پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا کہ پریس کلب پر زبردستی قبضہ کرنے اور اس کے بعد واقعات رونما ہونے اور بالآخر پریس کلب کا بند ہونا محض اتفاق نہیں بلکہ یہ سب کچھ ایک منصوبہ بند عمل کا حصہ ہے۔

عمران نبی ڈار نے کہا کہ جس طرح سے سرکاری فورسز نے پریس کلب کے ایک خود ساختہ دھڑے کے ساتھ مل کر کلب پر قبضہ کیا، اُن مناظر نے بدترین جمہوریت کُش مناظر کو بھی مات دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اُس پالیسی کا حصہ ہے جہاں اختلافِ رائے ایک جرم ہے۔ سرکاری فورسز کی طرف سے پریس کلب میں اس طرح سے ایک مخصوصی دھڑے کی حمایت میں جانے کی کوئی قانونی جوازیت نہیں تھی۔


نیشنل کانفرنس ترجمان نے کہا کہ پہلے پریس کلب کے رجسٹریشن کو تعطل میں ڈالنا، پھر یکطرفہ طور پر ایک عبوری کمیٹی بنانا، پھر سرکاری فورسز کے ذریعے زبردستی قبضہ ہونا، اور بالآخر کلب کو بند کر دینا ایک منصوبہ بند طریقہ کار تھا۔ اُن کے مطابق حکومت نے حیلے بہانے بنا کر پریس کلب کو بند کردیا۔ یہ دیکھنا انتہائی افسوسناک ہے کہ کشمیر میں بچی کچھی جمہوریت کو خاک میں ملانے کے لیے حکومت کس قدر نیچے گر سکتی ہے۔ نیشنل کانفرنس کشمیری صحافت پر اس کاری ضرب کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

عمران نبی ڈار نے کہا کہ کشمیر پریس کلب کو بند کرنے میں انتظامیہ اور مقامی پولیس کا رول کشمیر میں آزاد صحافت اور جمہوریت کو سلب کرنے کے مسلسل عمل کا حصہ ہے۔ پریس کلب کی ہیئت کی بحالی اور دوبارہ رجسٹریشن کا مطالبہ کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس ترجمان نے حکومت سے کہا کہ وہ جمہوری طور پر منتخب معاشرے میں مداخلت کرنے سے باز رہے اور حکومت کشمیر پریس کلب کی قانونی طور پر منتخب انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر پریس کلب میں پیش آیا یہ واقعہ ہائی کورٹ کے ایک موجودہ جج کے ذریعہ آزادانہ انکوائری کا متقاضی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔