کشمیر: ملی ٹینٹ مخالف آپریشنوں کے دوران پُر تشدد جھڑپیں، ایک عام شہری ہلاک، 70 زخمی

مہلوک شہری کی شناخت ضلع شوپیاں کے بدرہامہ کے رہنے والے سجاد احمد پرے کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں اضلاع میں کسی بھی طرح کی افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کردی گئی ہیں۔

تصویر سوشل میدیا
تصویر سوشل میدیا
user

یو این آئی

سری نگر: جنوبی کشمیر کے شوپیاں اور کولگام اضلاع میں بدھ کے روز دو مختلف ملی ٹنٹ مخالف آپریشنوں کے دوران مقامی لوگوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں ایک عام شہری جاں بحق جبکہ دیگر 70 بشمول سیکورٹی فورسز اہلکار زخمی ہوگئے۔ پیلٹ اور بلٹ لگنے سے زخمی ہونے والے احتجاجیوں کو علاج ومعالجہ کے لئے سری نگر کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

مہلوک سویلین کی شناخت ضلع شوپیاں کے بدرہامہ کے رہنے والے سجاد احمد پرے کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں اضلاع میں کسی بھی طرح کی افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کردی گئی ہیں۔

ضلع شوپیاں کے پنجورہ میں بدھ کو اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب فورسز نے مذکورہ علاقہ میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن شروع کیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق فورسز اہلکاروں نے علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی آپریشن شروع کیا۔ تاہم مقامی لوگ بالخصوص نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کردیا جنہوں نے جواب میں آنسو گیس کے گولے داغے اور مبینہ طور پر پیلٹ اور بلٹ کا بھی استعمال کیا۔

علاقہ میں جھڑپوں کے دوران کم از کم 20 افراد بشمول سیکورٹی فورسز اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے سجاد احمد پرے جو مبینہ طور پر گولی لگنے سے شدید طور پر زخمی ہوا تھا، کو ضلع اسپتال شوپیاں لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔

پنجورہ شوپیاں میں آخری اطلاعات ملنے تک ملی ٹنٹوں اور فورسز کے درمیان تصادم جاری تھا۔ فورسز نے مزید احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے علاقہ میں فورسز کی بھاری نفری تعینات کردی ہے۔ دریں اثنا ضلع کولگام کے محمد پورہ علاقے میں جائے تصادم آرائی کے نزدیک سیکورٹی فورسز اور مقامی نوجوانوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم سے کم 50 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع کولگام کے محمد پورہ تازی پورہ میں جوں ہی ملی ٹنتوں اور فورسز کے درمیان تصادم آرائی شروع ہوئی اور اس کی خبر پھیلتے ہی لوگ گھروں سے باہر آئے اور جائے تصادم آرائی کی طرف بڑھنے لگے۔ لوگوں نے سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ شروع کیا تاکہ ملی ٹینسی مخالف آپریشن کو ناکام بنایا جاسکے۔

فورسز نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے پیلٹ، بلٹ اور اشک آور گیس کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں کم سے کم 50 افراد زخمی ہوئے جن میں سے قریب آدھا درجن احتجاجی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جھڑپوں کے دوران یاور احمد نامی ایک نوجوان کو گولی لگی ہے جبکہ کم از کم تین دیگر نوجوانوں کی آنکھوں میں پیلٹ کے چھرے لگے ہیں۔ علاقے سے ملی ٹنٹ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد فورسز نے آپریشن ختم کرنے کا اعلان کیا۔