چین نے ڈوکلام کے پاس بسا لیے کئی گاؤں، 100 اسکوائر کلومیٹر زمین پر قبضہ، کانگریس نے پی ایم مودی سے پوچھے تلخ سوالات

کانگریس نے جمعرات کو چین کے ساتھ سرحد تنازعہ کو لے کر حکومت پر ایک بار پھر حملہ بولا اور الزام عائد کیا کہ چین نے ڈوکلام کے پاس تین گاؤں بسائے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کانگریس نے جمعرات کو چین کے ساتھ سرحد تنازعہ کو لے کر حکومت پر ایک بار پھر حملہ بولا اور الزام عائد کیا کہ چین نے ڈوکلام کے پاس تین گاؤں بسائے ہیں۔ کانگریس نے مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے ’قومی سیکورٹی‘ کے ساتھ کھلا سمجھوتہ کیا ہے۔ پارٹی نے اس ایشو پر وزیر اعظم کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی مقامی سالمیت ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہے۔

ایک پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کانگریس ترجمان گورو ولبھ نے کہا کہ ’’وزیر اعظم اور وزیر دفاع نے ہمارے مسلح افواج کی بہادری اور ہمت کو کم کر دیا ہے، جنھوں نے ہمت اور قربانی کے ساتھ چینی دراندازی اور جارحیت کا سامنا کیا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’ہم وزیر اعظم سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ پردے کے پیچھے نہ چھپیں اور لوگوں کو جواب دیں۔‘‘

چین نے ڈوکلام کے پاس بسا لیے کئی گاؤں، 100 اسکوائر کلومیٹر زمین پر قبضہ، کانگریس نے پی ایم مودی سے پوچھے تلخ سوالات

گورو ولبھ نے کہا کہ چینی فوجی سرگرمیوں پر نئے سیٹلائٹ تصویر (سیٹلائٹ امیج)، گزشتہ ایک سال میں بھوٹانی علاقہ میں چینی گاؤں کی مبینہ تعمیر کو دکھاتے ہیں، کئی نئے گاؤں کو تقریباً 100 اسکوائر کلومیٹر (25 ہزار ایکڑ) کے علاقہ میں پھیلا ہوا دیکھا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان گاؤں کی تعمیر مئی 2020 اور نومبر 2021 کے درمیان کیا گیا ہے۔

کانگریس لیڈر نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے گاؤں ڈوکلام چٹان کے پاس واقع ہیں، جہاں 2017 میں ہندوستان اور چین کا آمنا سامنا ہوا تھا، جس کے بعد چین نے اس علاقہ میں سڑک تعمیر کی سرگرمیوں کو پھر سے شروع کرنے کے لیے ہندوستانی حفاظتی نظام کو درکنار کر دیا۔ کاگنریس نے کہا کہ بھوٹان کی زمین پر نئے تعمیری کام ہندوستان کے لیے خصوصی طور سے فکر کا موضوع ہے، کیونکہ ہندوستان نے تاریخی طور سے بھوٹان کو اپنے باہری پالیسی پر صلاح دی ہے اور اس کے مسلح افواج کو ٹریننگ کرنا جاری رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’گزشتہ 18 مہینوں میں مودی حکومت نے ہماری قومی سیکورٹی کے ساتھ کیلاش پہاڑی سلسلہ میں ہمارے حقیقی صورت حال کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے۔‘‘


کانگریس ترجمان نے پینگونگ تسو جھیل علاقے کے شمالی ساحل پر فنگر 4 سے فنگر 3 تک کے علاقے پر چینی قبضے کو لے کر بھی حکومت کو گھیرا۔ ولبھ نے آگے کہا کہ ’’چین نے ایل اے سی کے اندر ہندوستان کے علاقے کو ڈیپسانگ میدانوں میں وائی جنکشن تک کیوں قبضہ کر لیا تھا؟ چین نے ایل اے سی کے اندر ہندوستان کے علاقے پر گوگرا اور ہاٹ اسپرنگس میں وائی جنکشن تک قبضہ کیوں کیا تھا؟ چین نے آخر ہمارے علاقے میں کیسے داخل کیا؟ کیسے چین نے ہمارے علاقے، اروناچل پردیش میں داخلہ کیا اور ایک گاؤں کی تعمیر کی، ایک دوہرے استعمال والا گاؤں۔ یہ رہائشی گاؤں ہی نہیں بلکہ ایک فوجی کینٹ بھی ہے۔‘‘

کانگریس نے الزام عائد کیا کہ شمالی فوجی کمان کے جی او سی اِن چیف نے کہا ہے کہ چین سرگرم ہو رہا ہے اور چمبی وادی میں بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر کر رہا ہے۔ سلی گوڑی کوریڈور کی سیاسی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انھوں نے فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چمبی وادی سیدھے سلی گوڑی کوریڈور، یعنی چکن نیک کو متاثر کرتی ہے، جو ہمارے 7 شمال مشرقی ریاستوں کو بقیہ ہندوستان سے جوڑتا ہے۔ کانگریس ترجمان نے کہا کہ 100 اسکوائر کلومیٹر زمین قبضہ کرنا، غیر قانونی دراندازی اور چین کے ذریعہ ڈوکلام کے بغل میں بھوٹان میں 4 نئے گاؤں بسانا ہماری قومی سیکورٹی کے لیے ایک جھٹکا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔