جنگ کی آگ میں جھلستے بچے! 1100 سے زائد معصوم جاں بحق یا زخمی، یونیسیف نے جاری کی رپورٹ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے وارننگ دی ہے کہ اگر تشدد میں اسی طرح مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو مرنے اور زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

یونیسیف، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی ایشیا میں بڑھتی جنگ کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے وارننگ دی ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی تشدد سے لاکھوں بچوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اس درمیان ایران کے صدر نے بھی امن کی بات کرتے ہوئے جنگ ختم کرنے کے لیے کچھ شرائط سامنے رکھی ہیں۔

یونیسیف نے کہا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعہ سے پورے مغربی ایشیا میں بچوں کی صورت حال انتہائی سنگین ہو گئی ہے۔ ایجنسی کے مطابق 28 فروری سے اب تک تشدد میں 1100 سے زائد بچے زخمی ہوئے ہیں یا ان کی موت ہو گئی ہے۔ ان میں سے تقریباً 200 بچوں کی موت ایران میں ہوئی ہے، جبکہ 91 بچوں کی موت لبنان میں ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 4 بچوں کی موت اسرائیل میں اور ایک بچے کی موت کویت میں ہوئی ہے۔


یونیسیف نے وارننگ دی ہے کہ اگر تشدد میں اسی طرح مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو مرنے اور زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ادارہ نے یہ بھی بتایا کہ اس بحران کی وجہ سے لاکھوں بچے اسکول نہیں جا پا رہے ہیں۔ مسلسل بمباری کی وجہ سے لاکھوں خاندانوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں اور ہزاروں بچے بے گھر ہو گئے ہیں۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ بچوں کا قتل یا انہیں زخمی کرنا کسی بھی حالت میں درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ بچوں کے لیے ضروری خدمات کو تباہ کرنا یا ان میں رکاوٹ ڈالنا بھی غلط ہے۔ یونیسیف کے مطابق پورے خطے میں تقریباً 20 کروڑ بچے ہیں اور وہ امید کر رہے ہیں کہ دنیا جلد اقدامات کرے گی۔

دریں اثنا ایرانی صدر مسعود پیزیشکیان نے کہا ہے کہ تہران امن کے لیے پرعزم ہے۔ جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط ضروری ہیں۔ ان کے مطابق یہ لڑائی یہودی حکومت اور امریکہ کی وجہ سے شروع ہوئی ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے ایران کے حقوق کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ ایرانی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے بات کی ہے۔ اس بات چیت میں انہوں نے خطے میں امن کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس لڑائی کو ختم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ایران کے قانونی حقوق کو تسلیم کیا جائے، نقصان کا معاوضہ دیا جائے اور مستقبل میں حملوں کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ٹھوس ضمانت دی جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔