ایران-امریکہ-اسرائیل جنگ: 1300 سے زائد ایرانی جان بحق، ہزاروں عمارتیں تباہ، 140 امریکی فوجی بھی زخمی

ایران کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں 1300 سے زائد شہری ہلاک اور تقریباً 10000 عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ دوسری جانب پینٹاگون نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس تنازعہ میں 140 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران جانی اور مالی نقصانات سے متعلق سنگین دعوے سامنے آئے ہیں۔ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں 1300 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً دس ہزار شہری عمارتیں تباہ یا شدید طور پر متاثر ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے امیر سعید ایروانی نے کہا کہ حملوں میں شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق تباہ ہونے والی عمارتوں میں 7943 رہائشی مکانات، 1617 تجارتی مراکز، 32 طبی اور ادویاتی مراکز، 65 اسکول اور تعلیمی ادارے، 13 ہلال احمر کی عمارتیں اور توانائی کی فراہمی سے متعلق کئی تنصیبات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

ایروانی نے الزام لگایا کہ امریکہ اور اسرائیل دانستہ طور پر شہری آبادی اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گنجان آباد رہائشی علاقوں اور اہم شہری تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور جوں جوں فوجی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں نقصانات کے اعداد و شمار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے متعدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہفتے کی رات تہران اور دیگر شہروں میں ایندھن کے ذخائر پر بڑے حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں فضا میں خطرناک اور زہریلے آلودہ ذرات پھیل گئے۔ ایرانی ہلال احمر کے مطابق ان دھماکوں کے باعث شدید فضائی آلودگی پیدا ہوئی جس سے شہریوں خصوصاً بچوں، خواتین، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوئے ہیں۔


ایروانی نے کہا کہ ایسے حملے ماحولیاتی ذمہ داریوں کی بھی خلاف ورزی ہیں جن میں اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے فریم ورک کنونشن اور حیاتیاتی تنوع سے متعلق عالمی معاہدے شامل ہیں۔ ان کے مطابق جنگ کے اثرات صرف فوری جانی نقصان تک محدود نہیں بلکہ ماحول اور شہری زندگی پر بھی دیرپا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر بھی حملے کیے گئے جس میں کئی شہری طیارے اور ہوائی اڈے کی سہولیات تباہ یا شدید متاثر ہوئیں۔ ہرمزگان صوبے کے قشم جزیرے میں ایک سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹ پر حملے کے بعد تقریباً تیس دیہات میں پانی کی فراہمی متاثر ہوئی۔

انہوں نے ایک اور واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک ہوٹل پر حملے کے نتیجے میں چار ایرانی سفارت کار ہلاک ہو گئے۔ ایروانی کے مطابق کسی دوسرے خود مختار ملک کی سرزمین پر سفارت کاروں کو نشانہ بنانا ایک سنگین دہشت گردانہ عمل اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ایروانی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ فوری کارروائی کرے تاکہ ایرانی عوام کے خلاف جاری اس جنگ کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے عوام، اپنے علاقے اور اپنی آزادی کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

ادھر واشنگٹن میں پینٹاگون نے بھی اس تنازعہ سے متعلق ایک اہم انکشاف کیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے ابتدائی دس دنوں میں تقریباً 140 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنل نے بتایا کہ ان میں سے زیادہ تر کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں اور 108 فوجی دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں جبکہ 8 فوجیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے اور انہیں خصوصی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔


اسی دوران امریکی کانگریس میں بھی اس جنگ پر بحث کا مطالبہ بڑھتا جا رہا ہے۔ سینیٹ کے ڈیموکریٹ رہنماؤں چک شومر، جیک ریڈ اور جین شاہین نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ کے مقاصد، حکمت عملی اور اس کے دائرہ کار کے بارے میں عوام اور کانگریس کو واضح جواب دیں۔ ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مسلسل بدلتے بیانات سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ جنگ کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں ہے۔

امریکی قانون سازوں نے خبردار کیا ہے کہ اس تنازعہ کے معاشی اثرات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق جنگ کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور عالمی توانائی بازار میں بے چینی بڑھ گئی ہے، جس سے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔