’پی ایم نے ہیڈلائن تو دے دی، اب یہ دیکھنا ہے کہ مزدوروں-غریبوں کو کیا ملے گا‘

سابق وزیر مالیات چدمبرم نے کہا کہ ہم اس بات کو دھیان سے دیکھیں گے کہ معاشی پیکیج میں کسے کیا ملتا ہے۔ پہلی چیز جو ہم دیکھیں گے وہ یہ کہ غریب، بھوکے اور تباہ ہو چکے مہاجر مزدور کیا امید لگا سکتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان میں کورونا بحران کے درمیان پی ایم مودی کے ذریعہ 20 لاکھ کروڑ روپے کے معاشی پیکیج کا اعلان کر دیا گیا ہے اور اب اس بات پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ حکومت اس پیسے کو کس طرح خرچ کرے گی اور اس پیکیج میں سے کس کو کیا ملے گا۔ خبروں کے مطابق اس سلسلے میں مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن آج شام 4 بجے میڈیا سے خطاب کریں گی اور ضروری جانکاری دیں گی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے معاشی پیکیج کے تعلق سے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس پر باریکی سے نظر رکھیں گے کہ کسے کیا کچھ ملنے والا ہے۔


پی چدمبرم نے اس سلسلے میں یکے بعد دیگرے کئی ٹوئٹ کیے ہیں جس میں کہا ہے کہ "کل پی ایم نے ہمیں ایک ہیڈلائن دے دی اور ایک خالی صفحہ بھی تھما دیا۔ فطری طور پر میرا رد عمل بھی صفر ہی تھا! آج ہم دیکھیں گے کہ کس طرح وزیر مالیات اس خالی صفحہ کو پُر کرتی ہیں۔ ہم دھیان سے ایک ایک روپے کو گنیں گے کہ حکومت اصل معنوں میں اسے کس طرح معیشت میں ڈالے گی۔"


ایک دیگر ٹوئٹ میں پی چدمبرم کہتے ہیں کہ "ہم یہ بھی دھیان سے جانچ کریں گے کہ کسے کیا ملتا ہے؟ اور پہلی چیز جو ہم دیکھیں گے، وہ یہ ہے کہ غریب، بھوکے اور تباہ مہاجر مزدور سینکڑوں کلو میٹر پیدل چلنے کے بعد کیا امید کر سکتے ہیں۔" انھوں نے مزید کہا کہ "ہم یہ بھی جانچ کریں گے کہ آبادی (13 کروڑ فیملی) کے ذیلی حصے کو رقم کی شکل میں کیا کچھ ملے گا۔"

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔