چھتیس گڑھ میں سیاسی رہنماؤں کی سکیورٹی مرحلہ وار کم کرنے کا فیصلہ، کانگریس نے ظاہر کی تشویش

چھتیس گڑھ حکومت نے نکسل ازم کے خاتمے کے دعوے کے بعد سیاسی رہنماؤں کی سکیورٹی مرحلہ وار کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس صدر دیپک بیج نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے دوبارہ جائزے کا مطالبہ کیا ہے

<div class="paragraphs"><p>چھتیس گڑھ کے وزیر داخلہ / سوشل میڈیا</p></div>
i

رائے پور: چھتیس گڑھ میں نکسل ازم کے خاتمے کے حکومتی دعوے کے بعد ریاستی حکومت نے عوامی نمائندوں کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی مرحلہ وار کم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ ریاست کے وزیر داخلہ وجے شرما نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں فیصلہ ہو چکا ہے اور آئندہ بھی مرحلہ وار سکیورٹی میں کمی کی جائے گی۔ دوسری جانب کانگریس نے اس فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے جلد بازی نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

بستر سمیت ریاست کے دیگر علاقوں میں ماؤ نواز تشدد کے پیش نظر سرپنچ سے لے کر اراکین پارلیمنٹ تک، مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ تقریباً 400 رہنماؤں کو خصوصی سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ ان کی حفاظت کے لیے کم از کم 1500 سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 55 رہنماؤں کو زیڈ اور زیڈ پلس، 90 کو وائی اور وائی پلس، 165 کو ایکس اور 90 کو ایکس-2 زمرے کی سکیورٹی دی گئی ہے۔ حکومت نے اب ان حفاظتی انتظامات کو بتدریج کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر داخلہ وجے شرما نے کہا کہ 31 مارچ 2026 کی آخری تاریخ مقرر کرکے نکسل مخالف کارروائیوں کے ذریعے شورش ختم کی گئی، لیکن اس کے فوراً بعد سکیورٹی واپس لینا مناسب نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق، حکومت نے اگلے چھ ماہ تک موجودہ انتظامات کا جائزہ لیا اور اس دوران پہلے سے طے شدہ سکیورٹی نظام برقرار رکھا گیا۔


وجے شرما نے کہا، ’’چھ ماہ کے بعد پوری سکیورٹی ختم کر دینا بھی ممکن نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی کے زمرے پہلے ہی ایک درجہ کم کیے جا چکے ہیں۔ زیڈ پلس زمرے میں شامل رہنماؤں کو زیڈ، زیڈ زمرے والوں کو وائی پلس اور وائی پلس زمرے والوں کو وائی زمرے میں منتقل کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق، آئندہ بھی اسی طریقے سے سکیورٹی کا ایک درجہ کم کیا جائے گا اور اس طرح حفاظتی انتظامات بتدریج ختم کیے جائیں گے۔

دوسری جانب، بستر سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما اور ریاستی کانگریس کے صدر دیپک بیج نے حکومت کے نکسل ازم کے مکمل خاتمے کے دعوے پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست میں نکسل ازم پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے اور بعض نکسل ماؤ نواز دباؤ کے باعث دوسرے علاقوں یا ریاستوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔

دیپک بیج نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کی سکیورٹی کم کرنے سے پہلے صورت حال کا دوبارہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، اگر حکومت حفاظتی انتظامات میں کمی کر رہی ہے تو اسے عوامی نمائندوں کی سلامتی کی ذمہ داری بھی لینی چاہیے۔ حکومت کے فیصلے اور کانگریس کے تحفظات کے درمیان اب توجہ اس بات پر ہے کہ نکسل مخالف کارروائیوں کے بعد زمینی صورت حال کا جائزہ لے کر سیاسی رہنماؤں کی سکیورٹی میں مزید کمی کس طرح کی جاتی ہے۔