چھتیس گڑھ: نکسلی حملے کے 10 قصورواروں کو این آئی اے عدالت نے سنائی سزائے موت، 29 افراد ہوئے تھے جان بحق
25 مئی 2013 کو نکسلیوں نے بستر ضلع کے دربھا پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع جھیرم گھاٹی میں ایک قومی شاہراہ پر کانگریس کی ’پریورتن ریلی‘ پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا۔

چھتیس گڑھ کے بستر ضلع میں واقع خصوصی این آئی اے عدالت نے 2013 کے جھیرم گھاٹی نکسلی حملہ کیس میں تمام 10 قصورواروں کو سزائے موت سنائی ہے۔ اس حملے میں 29 افراد مارے گئے تھے۔ عدالت نے رواں ماہ کے آغاز میں تمام 10 ملزمان کو قصوروار قرار دیا تھا اور فیصلے کے لیے 16 ستمبر کی تاریخ مقرر کی تھی۔ جگدل پور میں واقع قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی عدالت میں خصوصی جج ابھے سنگھ راجپوت نے اس معاملے میں ملزمان کو قصوروار قرار دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔ دفاع کے وکیل اروند چودھری نے بتایا تھا کہ جج نے 2 خواتین سمیت 10 ملزمان کو قصوروار قرار دیا ہے۔ اروند چودھری کے مطابق مقدمے کی سماعت کے دوران 101 گواہوں کے بیانات درج کیے گئے تھے۔
جن 10 قصورواروں کو سزا سنائی گئی ہے ان میں پرمیلا موڈیم، چیتو لیکام عرف مننا، سمیتا عرف پونیم موڈیم، مکا مانڈوی، کوسا کواسی عرف کوسارام، آیتا مرکام، مدکامی دیوا، جوگا مدکامی، بنجامی سنا عرف چمرو اور مہادیو ناگ شامل ہیں۔ جبکہ اس معاملے میں 11ویں ملزم کی مقدمے کی سماعت کے دوران موت ہو گئی تھی۔ یہ واقعہ 25 مئی 2013 کو پیش آیا تھا، جب نکسلیوں نے بستر ضلع کے دربھا پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع جھیرم گھاٹی میں ایک قومی شاہراہ پر کانگریس کی ’پریورتن ریلی‘ پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا۔ یہ بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متعلق سب سے مہلک حملوں میں سے ایک تھا۔ اس حملے میں کانگریس لیڈران، شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 29 افراد مارے گئے اور 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے نے اس وقت ریاست میں پارٹی کے سرکردہ لیڈران کو تقریباً پوری طرح ختم کر دیا تھا۔
اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں اس وقت کے ریاستی کانگریس صدر نند کمار پٹیل اور ان کے بیٹے دنیش، اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر مہندر کرما، سابق مرکزی وزیر ودیا چرن شکلا، سینئر کانگریس لیڈر اور سابق رکن اسمبلی ادے مڈلیار شامل تھے۔ نکسلیوں نے ایک لال بولیرو گاڑی کے نیچے بارودی سرنگ میں دھماکہ کیا تھا، جس سے 5 فٹ گہرا گڑھا بن گیا تھا اور ایک خراب ٹرک کی وجہ سے سڑک بلاک ہو گئی تھی۔ اس کے بعد تقریباً 2 گھنٹے تک پھنسی ہوئی 20 گاڑیوں کے قافلے پر نکسلیوں نے اندھا دھند فائرنگ کی تھی اور گرینیڈ بھی پھینکے تھے۔
حملے کے 2 دن بعد این آئی اے نے تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی تھیں اور 25 ستمبر 2014 کو این آئی اے نے جگدل پور کی خصوصی این آئی اے عدالت میں گرفتار 9 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس کے بعد 28 ستمبر 2015 کو این آئی اے نے 30 دیگر ملزمان کے خلاف بھی چارج شیٹ داخل کی اور اس معاملے میں مجموعی طور پر 11 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ حالانکہ ایک ملزم کی مقدمے کی سماعت کے دوران ہی موت ہو گئی تھی۔ اس طرح عدالت نے پہلے 10 ملزمان کو حملے کا قصوروار قرار دیا اور پھر انہیں سزا سنائی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
