چھتیس گڑھ: دنتے واڑہ میں 12 خواتین سمیت 37 نکسلیوں نے کی خودسپردگی، 65 لاکھ روپے کا تھا انعام
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گورو رائے نے بتایا کہ ’’خودسپردگی مہم میں ڈی آر جی، بستر فائٹرس، اسپیشل انٹیلی جنس برانچ، 111ویں اور 230 ویں سی آر پی ایف بٹالین اور آر ایف ٹی جگدل پور کی ٹیموں کا اہم تعاون رہا۔‘‘
چھتیس گڑھ کے دنتے واڑہ ضلع میں اتوار کو سیکورٹی فورسز اور پولیس کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ یہاں ایک بڑے ماؤنواز لیڈر کے ساتھ 37 فعال نکسلیوں نے خودسپردگی کر لی ہے۔ ہتھیار ڈالنے والوں میں 27 انعامی ماؤنواز بھی شامل تھے، جن پر مجموعی طور پر 65 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ تمام اضلاع میں جاری بحالی پروگرام ’پونا مارگیم‘ (بحالی سے دوبارہ تخلیق) سے متاثر ہو کر ماؤنوازوں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔
دنتے واڑہ پولیس کے مطابق ان تمام ماؤنوازوں نے 30 نومبر کو سماج کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کے عہد کے ساتھ پولیس اور انتظامیہ کے سامنے ہتھیار ڈالے۔ افسران کا کہنا ہے کہ ’پونا مارگیم‘ پہل نے ماؤنوازوں کو تشدد چھوڑ کرامن اور ترقی کی راہ اپنانے کی مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گورو رائے نے بتایا کہ اس کامیاب خودسپردگی مہم میں ڈی آر جی، بستر فائٹرس، اسپیشل انٹیلی جنس برانچ، 111ویں اور 230 ویں سی آر پی ایف بٹالین اور آر ایف ٹی جگدل پور کی ٹیموں کا اہم تعاون رہا۔ ان ایجنسیوں نے مہینوں کے مسلسل دباؤ، نگرانی اور قابل اعتماد انٹیلی جنس کی بنیاد پر ماؤنوازوں کو سرینڈر کے لیے تیار کیا۔
بحالی پالیسی کے تحت خودسپردگی کرنے والے تمام ماؤنوازوں کو 50 ہزار روپے کی فوری مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ چھتیس گڑھ حکومت کی جانب سے اسکل ڈیولپمنٹ ٹریننگ، زرعی زمین اور سماجی بحالی جیسی سہولیات فراہم کی جائے گی۔ افسران کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان کی زندگی میں نئی شروعات کا موقع فراہم کرتا ہے۔
واضح رہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومت کی نکسل بحالی پالیسی کا اثر مسلسل نظر آ رہا ہے۔ گزشتہ 20 ماہ میں دنتے واڑہ ضلع میں 165 انعامی ماؤنوازوں سمیت 508 سے زائد ماؤنواز تشدد کو چھوڑ کر سماج کے مرکزی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں۔ ماؤنواز تنظیم کے سینئر لیڈران سے لے کر نچلی سطح کے سرگرم کیڈر بڑی تعداد میں تنظیم سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔
بستر رینجر کے آئی جی سندرراج پٹلنگم نے کہا کہ ’پونا مارگیم: بحالی سے تخلیق نو‘ بستر کو امن، وقار اور ہمہ گیر ترقی کی سمت میں آگے لے جانے والی تبدیلی کی پہل ثابت ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اپیل کی ہے کہ جو ماؤنواز اب بھی جنگلوں میں سرگرم ہیں، وہ بھی تشدد کا راستہ چھوڑ کر سماج اور قوم کی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مرکزی دھارے میں شامل ہو کر نئی زندگی شروع کریں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔