چاردھام یاترا: تعداد سے متعلق پابندی ہٹانے کے لیے ہائی کورٹ میں سماعت 5 اکتوبر کو

ایڈووکیٹ جنرل ایس این بابولکر، جو حکومت کی طرف سے آج عدالت میں پیش ہوئے، نے کہا کہ چاردھام یاترا میں یاتریوں کی تعداد پر پابندیوں کی وجہ سے بہت محدود تعداد میں یاتری درشن کے لیے جا رہے ہیں۔

اتراکھنڈ ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
اتراکھنڈ ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نینی تال: اتراکھنڈ ہائی کورٹ ملک کی تاریخی چاردھام یاترا میں یاتریوں کی تعداد پر پابندی ہٹانے کے معاملے میں منگل کو سماعت کرے گی۔ یہ معاملہ آج حکومت نے چیف جسٹس آر ایس چوہان کی سربراہی میں ڈبل بنچ کے سامنے اٹھایا۔ حکومت کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے عدالت نے کل سماعت کی تاریخ مقرر کی۔

ایڈووکیٹ جنرل ایس این بابولکر اور چیف اسٹینڈنگ ایڈووکیٹ (سی ایس سی)، جو حکومت کی طرف سے آج عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ چاردھام یاترا میں یاتریوں کی تعداد پر پابندیوں کی وجہ سے بہت محدود تعداد میں یاتری درشن کے لیے جا رہے ہیں۔ یاتریوں کے رجسٹریشن کے بعد بھی چاردھام نہیں پہنچ رہے ہیں۔ روزانہ صرف 300 سے 500 عقیدت مند چاردھام پہنچ پا رہے ہیں۔


بابولکر نے عقیدت مندوں کی تعداد پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے درخواست میں دلیل دی گئی ہے کہ آج تک چاردھام یاترا کے دوران کورونا وبا کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ تروپتی بالاجی دھام کی مثال بھی حکومت نے اس معاملے میں دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر روز 8000 یاتری تروپتی بالاجی کا درشن کر رہے ہیں۔

انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ چاردھام یاترا ختم ہونے میں ایک ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے اور چاردھام یاترا سے وابستہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ عدالت نے معاملہ کو سننے کے بعد حکومت کی درخواست قبول کرلی ہے اور کل سماعت کی تاریخ مقرر کی ہے۔ عدالت کل صبح معاملے کی سماعت کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔