لکھنؤ کے ’میو اسپتال‘ میں آکسیجن ختم، مریضوں سے کی جانے کی اپیل

گومتی نگر کے میو اسپتال میں کووڈ کے سیریس مریضوں کے لیے آکسیجن کا صرف 15 منٹ کا ہی بیک اَپ اسٹاک بچا ہے۔ 400 سلنڈر بھجوانے کا بھروسہ دیا گیا تھا، لیکن اب تک نہیں پہنچے ہیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش میں کورونا کا قہر جاری ہے۔ سب سے زیادہ حالات لکھنؤ کے خراب ہیں۔ حالات اس قدر بگڑے ہوئے ہیں کہ سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں سے لگاتار بدانتظامی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ راجدھانی لکھنؤ کے گومتی نگر واقع مشہور میو اسپتال میں آکسیجن کی کمی کی خبر سامنے آئی ہے۔ جس کے سبب یہاں پر مریضوں کو واپس لوٹایا جا رہا ہے۔ خبروں کے مطابق شہر کے بڑے اسپتال میو نے بورڈ لگا دیا ہے کہ آکسیجن نہیں ہے، اپنے مریض لے جائیں۔

ایک صحافی نے اس سلسلےمیں ٹوئٹ کر جانکاری دی ہے کہ لکھنؤ میں گومتی نگر کے میو اسپتال میں کووڈ کے سیریس مریضوں کے لیے آکسیجن کا صرف 15 منٹ کا ہی بیک اَپ اسٹاک بچا ہے، 400 سلنڈر بھجوانے کا بھروسہ دیا گیا تھا لیکن پہنچے نہیں ہیں۔ اسپتال انتظامیہ گہار لگا رہا ہے، حالات انتہائی سنگین ہیں۔


صحافی کے مطابق، ان کا کہنا ہے کہ اسپتال کے مالک کا ان کے پاس ابھی فون آیا اور رونے لگا کہ 60 مریض ایڈمٹ ہیں اور پندرہ منٹ کا ہی آکسیجن بچا ہے۔ سبھی مر جائیں گے۔ اتنا مجبور، اتنا بے بس اور اتنا کمزور کبھی خود کو محسوس نہیں کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔