اے آئی کے ذریعے قابلِ اعتراض مواد پر قدغن میں ناکامی، مرکزی حکومت کا ایکس کے خلاف سخت ایکشن

مرکزی حکومت نے ایکس کو اے آئی کے غلط استعمال کے ذریعے قابلِ اعتراض اور فحش مواد روکنے میں ناکامی پر نوٹس جاری کیا ہے۔ وزارت نے 72 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کی ہے اور قانونی کارروائی کی وارننگ دی ہے

<div class="paragraphs"><p>گروک / تصویر ایکس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مرکزی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اس پر اے آئی کے ذریعے قابلِ اعتراض، فحش اور غیر اخلاقی مواد کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکامی کا نوٹس جاری کیا ہے۔ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے ایکس کو ہدایت دی ہے کہ وہ 72 گھنٹوں کے اندر ایکشن ٹیکن رپورٹ جمع کرائے، جس میں یہ بتایا جائے کہ پلیٹ فارم نے اپنے اے آئی فیچرز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے فوری طور پر کیا اقدامات کیے ہیں۔

وزارت کے مطابق ایکس پر دستیاب اے آئی سروسز، خاص طور پر گروک، کے ذریعے خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز کو قابلِ اعتراض انداز میں تبدیل کرنے، شائع کرنے اور پھیلانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں فرضی اکاؤنٹس کے ساتھ ساتھ عام صارفین کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی تصاویر کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال پلیٹ فارم کے حفاظتی نظام اور نفاذی طریقۂ کار کی سنگین ناکامی کی نشاندہی کرتی ہے۔

نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر ایکس نے مقررہ مدت میں مؤثر اقدامات نہیں کیے تو انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ، آئی ٹی قوانین، بھارتیہ نیائے سنہتا اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس میں پلیٹ فارم کے ذمہ دار افسران اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے صارفین بھی شامل ہوں گے۔ وزارت نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں آئی ٹی ایکٹ کے تحت حاصل سیف ہاربر کا تحفظ ختم کیا جا سکتا ہے۔


حکومت نے ایکس کو ہدایت دی ہے کہ وہ گروک کے تکنیکی اور انتظامی ڈھانچے کا جامع جائزہ لے اور ایسے مضبوط حفاظتی انتظامات نافذ کرے جن سے غیر قانونی مواد کی تیاری اور ترسیل روکی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ قابلِ اعتراض مواد کو فوری طور پر ہٹانے اور شواہد کے تحفظ کو یقینی بنانے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔

قبل ازیں، شیو سینا یو بی ٹی کی رکنِ پارلیمان پرینکا چترویدی نے وزیرِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ خواتین کی سلامتی کے لیے ایکس کی اے آئی ایپس میں مضبوط حفاظتی بندوبست کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی فیچرز کے ذریعے خواتین کو ہراساں کرنا ناقابلِ قبول ہے اور یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر خواتین کے وقار اور تحفظ کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔

وزارت نے کہا ہے کہ اے آئی کے غلط استعمال کے ذریعے پھیلنے والی قابلِ اعتراض سرگرمیوں کے خلاف دیگر وزارتوں، کمیشنوں اور ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر مربوط کارروائی کی جائے گی، تاکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو محفوظ اور ذمہ دار بنایا جا سکے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔