مرکزی حکومت کسانوں کے خلاف مقدمے واپس لے اور ایم ایس پی کا قانون بنائے، مایاوتی کا مطالبہ

اتر پردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’’ملک میں تیز تحریک کے بعد تین متنازع زرعی قوانین کے واپسی کا اعلان دیر آید درست آید کے مصداق ہے جو کہ استقبال کے قابل ہے۔‘‘

مایاوتی، تصویر آئی اے این ایس
مایاوتی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی نے تین زرعی قوانین واپس لینے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کو دیر سے اٹھایا گیا قدم قرار دیتے ہوئے حکومت سے اب کسانوں کی پیداوار کا کم از کم سہارا قیمت (ایم ایس پی) کو یقینی بنانے کا قانون بنائے جانے اور تحریک میں شامل ہوئے کسانوں کے خلاف درج مقدمے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

سابق وزیر اعلی مایاوتی نے ہفتہ کو ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’’ملک میں تیز تحریک کے بعد تین متنازع زرعی قوانین کے واپسی کا اعلان دیر آید درست آید کے مصداق ہے جو کہ استقبال کے قابل ہے۔ مگر اسے انتخابی مفاد و مجبوری کا فیصلہ بتا کر بی جے پی حکومت کی نیت پر بھی شک کیا جا رہا ہے۔ لہذا اس بارے میں کچھ اور ٹھوس فیصلے کرنا ضروری ہے۔‘‘


مایاوتی نے حکومت کو مشورہ دیا کہ کسانوں کی پیداوار کا کم از کم سہارا قیمت (ایم ایس پی) یقینی بنانے کے لیے نیا قانون بنانا اور ملک کی آن بان اور شان سے جڑے کافی سنگین مسائل کو چھوڑ کر سراپا احتجاج کسانوں پر درج باقی سبھی مقدموں کی واپسی وغیرہ کرنا بھی مرکزی حکومت یقینی کرے تو یہ مناسب ہوگا۔ بی ایس پی سربراہ نے ملک کو تانا شاہی والے دورے میں واپس لوٹنے کی حالت سے بچانے کے لیے توقع کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ویسے سابق میں ملک نے خاص کر کانگریس پارٹی کی آنجہانی اندرا گاندھی کی حکومت کے غرور اور تاناشاہی والے رویہ وغیرہ کو کافی جھیلا ہے مگر اب سابق کی طرح ویسے حالات میں ملک میں دوبارہ پیدا نہ ہو ایسی ملک کو توقع ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔