شیر میسور ٹیپو سلطان کی رواداری...یومِ پیدائش کے موقع پر خصوصی پیش کش

سلطان فتح علی خاں ٹیپو نہ صرف ایک عادل حکمراں، ایک اعلیٰ منتظم، ایک مستقبل شناس، ایک مرد مجاہد اور ایک عظیم سپہ سالار ہی نہیں بلکہ ایک مدبر، ایک قادرالکلام شاعراور ایک اسکالر بھی تھا

ٹیپو سلطان
ٹیپو سلطان
user

شاہد صدیقی علیگ

مؤرخ تیری رنگ آمیزیاں تو خوب ہیں لیکن

کہیں تاریخ ہو جائے نہ افسانوں سے وابستہ

سلطان فتح علی خاں ٹیپو ایک عادل حکمراں، ایک اعلیٰ منتظم، ایک مستقبل شناس، ایک مرد مجاہد اور ایک عظیم سپہ سالار ہی نہیں بلکہ ایک مدبر، ایک قادر الکلام شاعر اور ایک اسکالر بھی تھا, جسے آزادی کا جذبہ، جرأت، شجا عت، عزم و استقلال، سخت کوشی، خطر پسندی اور جنگی حکمت عملی ورثے میں ملی تھی۔ یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ ہندوستان کے طول و عرض پر اگر کسی نے انگریزوں کے دانت کھٹے کیے تو وہ سلطان حیدر علی اور ان کے فرزند ارجمند ٹیپو سلطان ہی تھے۔ جن کی ذہانت ،فراست، مستقبل شناسی اور قائدانہ طلسمی صلاحیت کے آگے انگریز بے بس نظر آئے۔ جب تک ٹیپو سلطان کی آخری سانس باقی رہی فریبی فرنیگوں کا حال آشفتہ اور مستقبل لاپتہ رہا، چنانچہ اپنوں کی غداریوں، مراٹھوں اور نظام کے ناپاک گٹھ جوڑ کی بدولت جب 4 مئی 1799 کو ٹیپو سلطان کی رگوں کا سارا لہو میسور کی خاک میں جذب ہو گیا، تو اس کی خبر انگریز جنرل ہارس کو جیسے ہی ملی تو فرط خوشی سے جھوم اٹھا کہ’’آج ہندوستان ہمارا ہے۔‘‘

فرنگیوں نے وسیع نظر، انصاف پسند اور رعایا پرور شیر میسور کے بارے میں من گھڑت اور بے بنیاد افسانے گھڑ کر گمراہ کن مواد پیش کیا، تاکہ ہندوستان کی قدیم ہم آہنگی، رواداری اور آپسی رشتوں کو تار تار کیا جا سکے۔ ان کے جھوٹے حقائق اور زہر آلودہ باتیں ڈبلو کرک پیٹرک کی سلیکٹ لیٹرز آف ٹیپو سلطان (1811)، ایم ولکس کی ہسٹوریکل اسکیچس آف ساؤتھ انڈیا (1864) اور ایچ ۔ایچ ڈوڈویل کی کیمبرج ہسٹری آف انڈیا (1929) جیسی تصانیف کے اوراق میں بکھری ہوئیں دیکھی جا سکتی ہیں، جبکہ سلطنت خدا داد کے حقیقی و تاریخی دستاویزات فارسی اور اردو زبانوں میں ہیں، جن پر آج بھی لاپرواہی اور بے حسی کی دبیز چادر پڑی ہوئی ہے۔


ٹیپو سلطان کے بارے میں گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ گریش کرناڈ کا بیان قابل ستائش ہے کہ، ’’ ٹیپو سلطان مسلمان ہونے کے بجائے ہندو ہوتے تو انہیں بھی شیوا جی جیسا اعزاز ملتا گویا شیر میسور کے ساتھ صرف مذیب کی بنیاد پر سوتیلا برتاؤ روا رکھا گیا۔‘‘

فتح علی ٹیپو سلطان ایک کشادہ ذہن کے فرمانروا تھے۔ وہ جتنے بہادر تھے، اتنے ہی خدا ترس اور عصبیت سے پاک بھی تھے۔ ان کی نظروں میں ہندو اور مسلمان دونوں ہی برابر تھے۔ ٹیپو سلطان کی رواداری کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی کہ ٹیپو سلطان کا میر آصف (مالیات اور مال گزاری) پنڈت پورنا، خزانچی کرشنا راؤ، شامیا یا آئینگر وزیر ( ڈاک و پولیس)، اس کا بھائی رنگا آئینگر بھی ایک افسر تھا، مول چند وسوجن رائے مغل دربار میں اس کے چیف ایجنٹ تھے اور ان کا خاص پیش کار سبا راؤ بھی ایک ہندو تھا۔سرینواس راؤ اور اپا جی رام ان کے قریبی ساتھی تھے۔ کورگ کا فوجدار ناگپایہ ایک برہمن تھا۔ کوئمبتور اور پالگھاٹ کے ریونیو آفیسر برہمن تھے۔ ٹیپو کی بے قاعدہ گھوڑ سوار فوج کا سربراہ ہری سنگھ تھا۔ راما راؤ اور سیواجی کے ہاتھوں میں باقاعدہ گھوڑ سوار دستے کی کمان تھی۔ ٹیپو نے جنرل سری پت راؤ کو مالابار میں نائر وں کی بغاوت کو دبانے کے لیے روانہ کیا تھا۔ ان کی فوج میں فرانسیسی عیسائی بھی اعلیٰ منصبوں پر مامور تھے ۔ میسور کی تاریخ میں پہلا چرچ فرانسیسیوں کی گز ارش پر ان کی اجازت سے تعمیر ہوا۔

ٹیپو سلطان ایک انتہائی سیکولر اور منصف مزاج شخصیت کا مالک تھا جس نے بلا تفریق مذہب و ملت اپنی رعایا کیلئے کام کیا۔میسور گزٹ کے مدیر پروفیسر سری کانتایا نے 156 مندروں اور مٹھوں کی فہرست دی ہے جن کو ٹیپو باقاعدگی سے سالانہ عطیہ دیتے تھے۔ ٹیپو سلطان اور مندروں کے مابین خط و کتابت ،کئی مندروں کو زیورات اور اراضی عطیہ کرنے کے فرمان آج بھی موجود ہیں۔

1782 اور 1799 کے درمیان ٹیپو سلطان نے اپنی سلطنت میں مندروں کو وقف کے 34 سند جاری کیے، جبکہ بہت سے منادر کو سونے اور چاندی کی پلیٹوں کے تحفے بھی پیش کیے۔جب سرنگری کے مٹھ کو مراہٹو ں نے تاخت وتاراج کر دیا تھا تب ٹیپو ہی نے اس مٹھ کو ازسرنو تعمیر کروایا تھا ۔ٹیپو سلطان نے مراہٹوں کی بدبختانہ عمل پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ۔’جو لوگ ایسے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں جس میں عبادتگاہوں کے نقصان پہنچایا جائے تو انہیں اس کی سزا کل یگ میں ہی جاتی ہے۔‘‘


فادر آف نیشن مہاتما گاندھی ینگ انڈیا کے 23جنوری 1930 ء کے شمارے میں ٹیپو سلطان کی رواداری کو یوں سراہتے ہیں کہ :

غیر ملکی مورخین میسور کے فتح علی ٹیپو سلطان کو ایک سخت گیر جنونی کے طور پیش پر کرتے ہیں ،جس نے اپنی ہندو رعایا پر ظلم ڈھائے اور انہیں زبردستی اسلام مذہب قبول کرنے پر مجبور کیا، جبکہ اس کے ہندو رعایا کے ساتھ تعلقات بالکل خوشگوار نوعیت کے تھے۔ میسور ریاست کے محکمہ آثار قدیمہ کے پاس تیس سے زیادہ خطو ط موجود ہیںجو ٹیپو نے شرنگیری کے شنکرآچاریہ کو لکھے تھے جو کنڈ زبان میں ہیں۔ یقینی طور پر ٹیپو کل مختار بادشاہ تھا، لیکن اس کے باوجود اس نے ہندو تاجروں کو عربی رسم الخط میں اپنا حساب کتاب رکھنے پر مجبور نہ کیا۔ شنکر آچاریہ کو لکھے گئے خطوط میں ایک خط میں ٹیپو نے ان سے درخواست کی وہ پوری کائنات کی بھلائی اور خوشحالی کے لیے دعا کریںاور ان سے یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ جگت گرو ہیں جس ملک میں آپ جیسی مقد س ہستی موجود ہو ،وہاں خدا کی رحمت ہوتی ہے،آپ کو ایک غیر ملک میں اتنے زیادہ عر صے رہنے کی کیا ضرورت ہے ،جلد فار غ ہوکر میسور واپس آجائیے ۔ ٹیپو نے ہندو منادر کو خاص طور پر سری وینکٹ رمنا ،سری نواس اور سری رنگاناتھ کی زمینیںاور دیگر دوسری چیزوںکی شکل میںبیش قیمتی تحفہ عطا کئے۔ کچھ مندر اس کے محلات کے آس پاس واقع تھے جو اب بھی اس کی آزاد خیالی ،فراخدلی ،سخاوت اور رواداری کی شہادت دیتے ہیں۔وطن اور قوم کے شہیدوں میں اس حد تک بلند مرتبہ اور کوئی دکھائی نہیں دیتا جو آزادی کی خاطر شہید ہوگیا ،اسے اپنی عبادت میں یکساں خدا کی پوجا کرنے والے ہندو مندروں کی گھنٹیوں کی آواز سے کبھی خلل محسوس نہیں ہواوہ وطن کی بازیابی کے لیے لڑ تا ہوا شہید ہوگیا اور دشمن (ٹیپو)کی جسد خاکی ان انجان فوجیوں کی نعشوں میں پائی گئی تو دیکھا گیا کہ موت کے بعد بھی اس کے ہاتھ میں تلوار تھی۔‘‘

بہر کیف تاریخ کو اسی عہد کے زمان ومکان میں دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے،لہٰذا ٹیپو سلطان کے کردار اور اس کے نظریات کو اٹھارہویںصدی کے ضمن میں سمجھنا چاہیے ،جب ہرجانب شہنشاہیت کابو ل بالا تھا ۔ تاجر فرنیگوں نے کیتھولک مشنری کو سلطنت خداداد کے خلاف بھڑ کانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ،چنانچہ ٹیپو کو ان کی سرکوبی کے لیے سخت قدم اٹھانے پڑے ۔علاوہ ازیں شیر میسور نے کیرالا میں واقع ایک چھوٹی سی ریاست ٹرا ئو نکور میں رائج ایک انسانیت سوز روایت کے خلاف ایک انقلابی قدم اٹھایا، جہاں دلت اور نچلی ذات کی خواتین کو ایک ساڑی میں ہی جسم ڈھانپنا پڑتا تھا وہ بلائوز نہیں پہن سکتی تھیںجب یہ خبر ٹیپو کے کانوںتک پہنچی تو انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں کپڑے سلواکر دلت خواتین میں تقسیم کروائے اور انہیں بھی سماج میں ایک معزز فرد کی طرح جینے کا حوصلہ عطا کیا ۔ٹیپو کی دلت نوازی اعلیٰ ذات کے لوگوں کو ایک نظرنہیں بھائی۔جس کی پاداش میں ا نگریز تاریخ دانوں کے ساتھ بعض کج نظر ہندوستانی مورخین نے بھی انہیں بدنام کرنے میں آسمان زمین کے قلابے ملا دیے ، جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔