مہاراشٹر کو ’ریمیڈیسیور‘ انجکشن دینے پر مرکز نے لگائی روک

نواب ملک نے کہا ہے کہ ریمیڈیسیور انجکشن کی ضرورت کے مطابق فراہمی کا فیصلہ کرنا انتہائی ضروری ہے اور ریاست کے تمام سرکاری اسپتالوں کو فوری طور پر اس کی فراہمی کی جانی چاہیے۔

این سی پی لیڈر نواب ملک / تصویر آئی اے این ایس
این سی پی لیڈر نواب ملک / تصویر آئی اے این ایس
user

محی الدین التمش

ممبئی: ریاست مہاراشٹر میں کووڈ 19 کے معاملات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 67 ہزار 123 کورونا کے نئے مریض پائے گئے ہیں جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 419 کورونا مریضوں کی اموات ہوئی ہے۔ کورونا کے علاج میں اہم ترین سمجھے جانے والا ریمیڈیسیور انجکشن کی مہاراشٹر بھر میں کمی سے مریضوں کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اس درمیان این سی پی ترجمان اور حکومت مہاراشٹر میں اقلیتی امور اوقاف اور اسکل ڈیولپمنٹ کے کابینی وزیر نواب ملک نے ایک بیان دے کر مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچادی ہے۔

نواب ملک نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کے اشاروں پر ریمیڈیسیور انجکشن کو ریاست مہاراشٹر کو سپلائی نہیں کیا جارہا ہے۔ نواب ملک نے واضح کیا کہ ریمیڈیسیورانجکشن کی برآمدگی پر عائدپابندی کی وجہ سے ملک کے 16برآمدکنندگان نے حکومت سے ان کے پاس موجود 20لاکھ ریمیڈیسیور انجکشن کو فروخت کرنے کی اجازت طلب کی تھی مگر حکومت نے انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا۔

نواب ملک نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ہندوستان میں 16برآمدکنندگان ہیں جن کے پاس ریمیڈیسیور انجکشن کی 20شیشیاں ہیں۔ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ انجکشن بنانے والی 7 کمپنیاں ہی یہ انجکشن فروخت کرسکتی ہیں۔ لیکن یہ کمپنیاں انجکشن کو فروخت کرنے کی ذمہ داری لینے سے انکار کررہی ہیں۔ ایسے میں اب مرکزی حکومت کے ذریعے فیصلہ کرنے کی پیچیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ نواب ملک نے کہا ہے کہ ریمیڈیسیور انجکشن کی ضرورت کے مطابق فراہمی کا فیصلہ کرنا انتہائی ضروری ہے اور ریاست کے تمام سرکاری اسپتالوں کو فوری طور پر اس کی فراہمی کی جانی چاہیے۔ نواب ملک کے مطابق ریاستی حکومت نے تمام 16برآمدکننگان سے جب اس کے بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ مرکزی حکومت نے مہاراشٹر میں ریمیڈیسیور انجکشن فراہم کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ ان برآمدکننگان کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے ریمیڈیسیور انجکشن فراہم کیا تو ہمارے لائسنس رد کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک معاملہ ہے۔ مرکزی حکومت اپنی غلیظ سیاست کے لیے مہاراشٹر کے لوگوں کی زندگی سے کھیل رہی ہے۔ نواب ملک نے مزید کہا کہ کورونا کے بڑھتے اثرات کے پیشِ نظر ریمیڈیسیور انجکشن کی زبردست قلت ہے، ایسے میں مرکزی حکومت کا یہ افسوسناک فیصلہ سامنے آنے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت کے نزدیک لوگوں کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ نواب ملک کے مطابق ایسی صورت میں اب مہاراشٹر حکومت کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ ان برآمدکنندگان سے ریمیڈیسیور انجکشن کا ذخیرہ ضبط کرے اور اسے لوگوں کو دستیاب کرائے۔

بی جے پی کا رد عمل:

مہاراشٹر کے اقلیتی امور کے وزیر اور این سی پی ترجمان کے بیان کے بعد مہاراشٹر بی جے پی میں بوکھلاہٹ نظر آنے لگی ہے۔ بی جے پی لیڈران نے نواب ملک کے بیان پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کے الزام کو غلط بتایا اور ان سے اس معاملے ثبوت پیش کرنے کے لیے کہا۔ بی جے پی لیڈر پروین دریکر نے ٹھاکرے سرکار پر ریمیڈیسیور انجکشن اور آکسیجن سلنڈر کی فراہمی کو لے کر سیاست کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔