آج سے مردم شماری کا آغاز، آدھار سے لے کر بینکنگ تک پوچھے جائیں گے 40 سوالات

وزارت داخلہ نے 40 سوالات کی فہرست جاری کی ہے، جو مردم شماری آفیسر خاندانوں سے پوچھیں گے۔ ان علاقوں میں رہنے والے افراد 17 سے 31 اگست کے درمیان اطلاعات آن لائن بھر سکتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>مردم شماری / آئی اے این ایس</p></div>
i

’ہندوستانی مردم شماری 2027‘ کا اہم مرحلہ آج سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ پیر کے روز مرکز کے زیر انتظام ریاست لداخ اور جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے علاقوں میں یہ سلسلہ ’سیلف اینومریشن‘ (خود اپنی جانکاری درج کرنا) سے شروع ہوگا۔ وزارت داخلہ نے ان 40 سوالات کی فہرست پہلے ہی جاری کر دی ہے، جو مردم شماری آفیسر گھریلو شیڈول کے تحت خاندانوں سے پوچھیں گے۔ ان علاقوں میں رہنے والے افراد 17 سے 31 اگست کے درمیان اپنی اطلاعات آن لائن بھر سکتے ہیں۔ اس کے بعد مردم شماری کرنے والے ملازمین 40 سوالات کے ساتھ گھر گھر جا کر اطلاعات جمع کریں گے۔ یہ سلسلہ یکم ستمبر سے 30 ستمبر تک جاری رہے گا۔ ملک کے دیگر حصوں میں آبادی کی مردم شماری اگلے سال فروری میں ہوگی۔

چیف مردم شماری افسر کے مطابق جموں و کشمیر کے 16 اضلاع ایسے ہیں جہاں شدید برف باری ہوتی ہے۔ ان اضلاع میں پہلے ہی مردم شماری کی تفصیلات جمع کرائی جائیں گی، کیونکہ ستمبر-اکتوبر کے بعد پہاڑی علاقوں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لداخ سے متعلق مردم شماری افسر نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے جب لداخ کی الگ سے مردم شماری ہو رہی ہے۔ 2019 میں مرکز کے زیر انتظام خطہ بننے کے بعد لداخ کو اپنا پہلا آفیشیل ڈاٹا ملے گا۔ قابل ذکر ہے کہ لداخ پوری طرح برف باری والا علاقہ ہے۔ اس میں لیہہ اور کارگل دونوں ضلعے شامل ہیں۔


واضح رہے کہ سرکاری حکم کے مطابق مردم شماری کے دوران جو سوالات پوچھے جائیں گے، ان میں ذات، درج فہرست ذات (ایس سی) اور شیڈول ٹرائب (ایس ٹی) کا درجہ، مذہب، تعلیم، روزگار، ہجرت اور خاندان سے متعلق مختلف معلومات شامل ہیں۔ کوویڈ- 19 ویکسینیشن کی جگہ سے لے کر بینک کھاتوں کی تعداد، موبائیل نمبر، آدھار، ووٹر آئی ڈی اور پاسپورٹ جیسی اطلاعات بھی مانگی جائیں گی۔ ہندوستان کے رجسٹرار جنرل مرتیونجے کمار کے حکم میں ان سوالات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں جاری ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق مردم شماری یکم ستمبر سے 30 ستمبر کے درمیان لداخ اور جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے برفانی علاقوں میں کی جائے گی، جہاں مردم شماری ایک ساتھ نہیں کی جاتی ہے۔ یہ پہلی بار ہوگا کہ مردم شماری کے دوران ذات پر مبنی اطلاعات بھی جمع کی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق سوال و جواب کی فہرست میں مختلف ذاتوں کی فہرست دیے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ لوگوں سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ جواب دیں گے۔ ذات پر مبنی مردم شماری کو شامل کرنے کا فیصلہ گزشتہ سال 30 اپریل کو وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں سیاسی امور کی کابینہ کمیٹی نے لیا تھا۔ ہندوستان کے رجسٹرار جنرل کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مردم شماری ایکٹ، 1948 (1948 کا ایکٹ 37) کے سیکشن 8 کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت ملے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مردم شماری آفیسرس مردم شماری کریں۔


’مردم شماری 2027‘ میں پوچھے جائیں گے یہ 40 سوالات:

شخص کا نام، خاندان کے سربراہ سے رشتہ، جنس، تاریخ پیدائش اور مکمل شدہ عمر، موجودہ ازدواجی حیثیت، شادی کے وقت عمر، شوہر یا بیوی کا نام، اعلان کردہ قومیت، مذہب، درج فہرست ذات (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) یا ذات، والد سے متعلق معلومات، والدہ سے متعلق معلومات، معذوری، مادری زبان اور دیگر معلوم زبانیں، خواندگی اور ڈیجیٹل خواندگی کی حیثیت، تعلیمی ادارے میں موجودہ تعلیمی حیثیت، حاصل کردہ اعلیٰ ترین تعلیمی سطح اور مضمون/اسٹریم، گزشتہ ایک سال کے دوران کوئی کام کیا یا نہیں، معاشی سرگرمی کی قسم، پیشہ، صنعت، تجارت یا خدمت کی قسم، کارکن کی قسم، غیر معاشی سرگرمی (حاشیائی، نیم حاشیائی اور غیر کارکنوں کے لیے)، کام کی تلاش یا کام کے لیے دستیابی (حاشیائی، نیم حاشیائی اور غیر کارکنوں کے لیے)، کام کی جگہ تک آمد و رفت کی تفصیلات، جائے پیدائش، سابقہ رہائش گاہ، نقل مکانی کی وجہ، آخری بار نقل مکانی کے بعد اس گاؤں/شہر میں رہنے کی مدت، مستقل رہائشی پتہ، اس وقت زندہ بچوں کی تعداد (موجودہ شادی شدہ، بیوہ، مطلقہ اور علیحدہ رہنے والی خواتین کے لیے)، اب تک زندہ پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد (موجودہ شادی شدہ، بیوہ، مطلقہ اور علیحدہ رہنے والی خواتین کے لیے)، گزشتہ ایک سال میں زندہ پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد (موجودہ شادی شدہ خواتین کے لیے)، کووڈ-19 ویکسینیشن کی جگہ، بینک اکاؤنٹس کی کل تعداد، موبائل نمبر (اگر دستیاب ہو)، آدھار نمبر (اگر دستیاب ہو)، ووٹر شناختی کارڈ نمبر (اگر دستیاب ہو)، پاسپورٹ نمبر (اگر ہندوستانی پاسپورٹ ہولڈر ہیں)، ڈرائیونگ لائسنس دستیاب ہے یا نہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔