بلیا قتل: ’فائرنگ نہ ہوتی تو درجنوں لوگ مارے جاتے!‘ کلیدی ملزم کی حمایت میں اترے بی جے پی رکن اسمبلی

بی جے پی رہنما کا کہنا ہے کہ اگر دھریندر نے اپنے دفاع میں گولی نہیں چلائی ہوتی تو اس کے کنبہ کے درجنوں افراد ہلاک ہو جاتے۔ کیونکہ بہت سے لوگ بری طرح زخمی ہیں، لہذا ان کی بھی بات سنی جانی چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بلیا: اترپردیش کے بلیا ضلع میں جمعرات کی سہ پہر کو ایک درمیانی عمر کے شخص کے قتل کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے اور اس واقعہ نے بھی یوگی حکومت کے ابتر ہوتے نظم و نسق کی ایک اور مثال پیش کی ہے۔ ایک طرف جہاں بی جے پی حکومت پر جرائم نہ روک پانے کی وجہ سے لگاتار تنقید ہو رہی ہے، وہیں پارٹی لیڈران، عوامی نمائندگان کی بیان بازیوں اور مجرموں سے تعلقات یوگی حکومت کی مزید فضیحت کرا رہے ہیں۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی سریندر سنگھ بھی اسی طرح کی بیان بازی کرتے رہتے ہیں، اب انہوں نے بلیا قتل معاملہ میں کلیدی ملزم دھریندر سنگھ کی حمایت کی ہے۔

سریندر سنگھ نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا ہے اس میں بی جے پی رہنما ملزم کا دفاع کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ سریندر سنگھ کا کہنا ہے کہ اگر دھریندر سنگھ نے اپنے دفاع میں گولی نہیں چلائی ہوتی تو اس کے کنبہ کے درجنوں افراد ہلاک ہو جاتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دھیریندر گروپ کے بہت سے لوگ بری طرح زخمی ہیں، لہذا ان کی بھی بات سنی جانی چاہیے۔

بی جے پی ایم ایل اے نے ویڈیو میں کہا کہ ’'جو واقعہ پیش آیا وہ قابل مذمت ہے، لیکن پولیس یکطرفہ کارروائی کر رہی ہے۔ دوسرے فریق کی 6-6 خواتین زخمی ہیں اور ایک شخص شدید زخمی ہوا ہے، جسے بنارس ریفر کردیا گیا ہے۔ ان لوگوں کے حق میں کوئی بات نہیں کر رہا، نہ ہی ان کی تکلیف کسی کو نظر آ رہی۔‘‘

سریندر سنگھ نے مزید کہا کہ 'مجھے بیریا کے عوام اور انتظامیہ سے یہ کہنا ہے کہ اس واقعے کی مذمت کی جانی چاہیے، لیکن انصاف کے پہلو کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ جس شخص نے غلطی کی ہے اسے سزا دی جانی چاہیے۔ اگر کوئی کسی پر گولی چلاتا ہے تو اس کو بھی سزا ملنی چاہیے، لیکن جن لوگوں نے لاٹھیوں کئی افراد کو زخمی کیا ہے، ان پر بھی کارروائی کی جانی چاہیے۔ انتظامیہ سے یہ میری درخواست ہے، اپیل ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات کی سہ پہر بلیا کے گاؤں درجن پور میں سرکاری کوٹے کی دکانوں کو الاٹ کرنے کا عمل جاری تھا۔ پھر اس الاٹمنٹ کے دعویدار دونوں فریقوں کے مابین تنازعہ بھڑک اٹھا۔ تنازعہ بڑھنے لگا تو تو دونوں فریقوں نے مارپیٹ اور پتھربازی شروع کر دی۔ اس دوران ایک طرف سے گولیاں چلنی شروع ہوگئیں۔ اس کے بعد بیریا کے بی جے پی ایم ایل اے کے قریبی سمجھے جانے والے بی جے پی کارکن دھریندر پرتاپ سنگھ نے دوسری پارٹی کے جے پرکاش پال کو گولی مار دی۔

موقع پر موجود لوگوں نے جے پرکاش پال کو اسپتال پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ اس فائرنگ کے تبادلے میں قریب ایک درجن افراد زخمی ہیں۔ اس معاملے میں آٹھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں سے دھریندر سنگھ کے بھائی دیویندر سنگھ سمیت 7 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ مرکزی ملزم مفرور ہے۔

next