اُتر پردیش: کیرانہ کی سیاسی جنگ میں ’ذات پات‘ کی ہوگی فتح!

سولہ لاکھ سے زیادہ رائے دہندگان والے اس حلقے میں روز مرہ کے مسائل کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا ہے۔ ہر انتخاب کی طرح اس بار بھی یہاں ترقی کا معاملہ پٹری سے اتر چکا ہے اور لڑائی ذات فیکٹر کی پٹری پر جاری ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سہارنپور: مشرقی اترپردیش میں واقع کیرانہ میں پہلے مرحلے کے تحت 11 اپریل کو ووٹنگ ہونی ہے اس حلقے میں انتخابی سرگرمیوں سے انداز ہوتا ہے کہ انتخابات میں روزمرہ کے مسائل کہیں دور کھڑے ہیں جبکہ ’ذات فیکٹر‘ میں ہی الجھ کر رہ جانے والے کیرانہ نےاس بار مقابلہ سہ رخی بنا دیا ہے۔

گذشتہ انتخابات میں بی جے پی کےحکم سنگھ نے یہاں سےبازی ماری تھی لیکن ان کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی مرگانکا سنگھ2018 کے ضمنی انتخابات میں سماجوادی پارٹی(ایس پی) کی تبسم حسن سے ہار گئی تھیں۔ بی جے پی نے اس بار ان کا ٹکٹ کاٹ کر گنگوہ کے رکن اسمبلی پردیپ چودھری کو میدان میں اتارا ہے جبکہ تبسم حسن سماج وادی پارٹی کے امیدوار کے طور پر ایک بار پھر انتخابی میدان میں ہیں۔ کانگریس نے جاٹ لیڈر ہریندر ملک کو اپنا امیدوار بنایا ہے اس سے یہاں ان تینوں کے درمیان سخت مقابلے کی امید ہے۔

سولہ لاکھ سے زیادہ رائے دہندگان والے اس حلقے میں روز مرہ کے مسائل کا کہیں تذکر ہ نہیں ملتا ہے مگر ہر انتخاب کی طرح اس بار بھی یہاں ترقی کا معاملہ پٹری سے اتر چکا ہے اور لڑائی ذات فیکٹر کی پٹری پر چل پڑی ہے۔ کیرانہ میں مسلم رائے دہندگان کی تعداد 38.10 فیصد ہے جبکہ سہارنپور کی گنگوہ اور نکڑ اسمبلی سیٹیوں کے کیرانہ میں شامل کرنے کے بعد گوجر اورجاٹ رائے دہندگان کی تعدادمیں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔

اس سیٹ سے تبسم حسن اپنے شوہر منور حسن کے انتقال کے بعد 2009 میں بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) کے ٹکٹ پر رکن پارلیمان منتخب ہوئیں تھیں۔ لیکن 2014 میں ان کے بیٹے ناہید حسن نے بی جے پی کے حکم سنگھ کے سامنے انتخابی میدان میں اترے تھے۔ اس وقت بی جے پی کو 565909 ووٹ ملے تھے۔ حکم سنگھ کے انتقال کے بعد 2018 میں ہوئے ضمنی انتخاب میں تبسم حسن نے مرگانکا کو 44618 ووٹوں سے ہرایا تھا۔ ضمنی انتخابات میں تبسم حسن کی جیت اس لئے بھی کافی اہمیت رکھتی ہے کہ یہاں اس وقت کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے پوری طاقت جھونک دی تھی لیکن بی جے پی کو جیت نہیں حاصل ہوئی تھی۔

اس علاقے کے معروف گوجر لیڈر چودھری ویریندر سنگھ گذشتہ سنیچر کو بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ ان کے بیٹے اور ضلع شاملی کے پنچایت صدر منیش چوہان بھی بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ ایسے میں گوجر ووٹوں کا ایک بڑا حصہ بی جے پی کے حق میں جاسکتا ہے۔ اگر بات آر ایل ڈی امیدوار تبسم حسن کی کریں تو سیاست ان کے خاندان کا مستقل حصہ رہی ہے۔ ان کے سسر اختر حسن کیرانہ لوک سبھا سیٹ سے 1984 میں کانگریس کے ٹکٹ سے انتخاب جیتے تھے۔ انہوں نے اس وقت بی ایس پی سپریمو مایاوتی کو دولاکھ ووٹوں سے شکست دی تھی۔

سال 1996 میں تبسم حسن کے شوہر منور حسن لوک سبھا پہنچے۔ بعد میں وہ ایس پی سے 1998 میں راجیہ سبھا کے رکن نامزد ہوئے۔ 1980 میں اس سیٹ سےاس وقت کے وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کی بیوی گائتری دیوی نے لوک سبھا انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی۔ سال 1971 میں چودھری شفقت جنگ کانگریس کے ٹکٹ پر لوک سبھا کے لئے منتخب کیے گئے۔ کیرانہ سے 1999 میں عامر عالم آر ایل ڈی کے ٹکٹ پر رکن پارلیمان منتخب ہوئے۔ اور 2004 میں انورادھا چودھری آر ایل ڈی کے ٹکٹ پر پالیمنٹ پہنچیں۔

1989 اور 1991 میں جنتا دل کے ہرپال پانوار پارلیمنٹ پہنچے تھے۔ بی جےپی نے 1998 میں پہلی بار یہاں جیت کا پرچم لہرایا تھا۔ اس وقت بی جے پی امیدوار ویریندر ورما نے ایس پی کے منور حسن کو شکست دی تھی۔ دوسری بار بی جے پی کو اس سیٹ پر 2014 میں جیت ملی تھی جب حکم سنگھ یہاں سے پارلیمنٹ پہنچے تھے۔

Published: 1 Apr 2019, 11:09 PM