دہلی میں کینسر کا قہر، 20 سالوں میں تقریباً 1.1 لاکھ افراد کی موت
دہلی میں کینسر سے ہونے والی اموات کے خوفناک اعدادوشمار سامنے آئے ہیں۔ حالانکہ دنیا بھر میں کینسر کے معاملے بڑھ رہے ہیں لیکن ہندوستان کی راجدھانی میں بڑی تعداد میں ہوئی اموات تشویش پائی جارہی ہے۔

حال ہی میں جاری ہوئے دہلی حکومت کے تازہ ترین اعداد وشمارراجدھانی میں کینسر کی سنگین اور تشویشناک تصویر پیش کررہے ہیں۔ پچھلے 20 سالوں میں کینسر سے مرنے والے ہر 3 میں سے ایک شخص کی عمر 44 سال سے کم رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ بیماری اب صرف بوڑھوں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ نوجوانوں اور کام کرنے کی عمر کے لوگوں کو بھی تیزی سے متاثر کر رہی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہلی میں تقریباً 1.1 لاکھ افراد کی موت کینسر سے ہوئی ہے جن میں سے تقریباً 93،000 اموات اسپتالوں میں درج کی گئی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 2005 میں جہاں کینسر سے ہونے والی اموات کی تعداد 2000 سے زیادہ تھی وہیں 2024 تک بڑھ کر تقریباً 7400 تک پہنچ گئی۔ حالانکہ یہ اضافہ ہر سال یکساں نہیں رہا۔ مثال کے طور پر 2011 میں کینسر سے ہونے والی اموات کی تعداد تقریباً 10,000 تک پہنچ گئی تھی جو اس بیماری کے بڑھتے ہوئے خطرے کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔ عمر کے لحاظ سے دیکھیں تو45 سے 64 سال کی عمر کے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے جن کی حصہ داری 41 فیصد سے زیادہ رہی۔ اس کے علاوہ 14 سال سے کم عمر کے بچوں حصہ داری تقریباً 8 فیصد اور 15 سے 24 سال کی عمر کے بچوں کی 5.8 فیصد رہی۔ ان 20 سالوں میں دہلی کے اسپتالوں میں 7,298 بچوں اور 5,415 نوجوانوں (24 سال سے کم) کی کینسر سے موت درج کی گئی۔
دہلی میں کینسر سے ہونے والی اموات میں سالانہ 7 فیصد کی اوسط شرح سے اضافہ ہوا ہے جو راجدھانی کی آبادی میں اضافے کی شرح سے 3 گنا زیادہ ہے۔ تمام اموات میں سے 90 فیصد سے زیادہ اسپتالوں میں ہوئیں اور 2018 میں یہ اندازہ تقریباً 98 فیصد تک پہنچ گیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بہتر رپورٹنگ اور علاج کے لیے اسپتالوں پر بڑھتے ہوئے انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔ اصل تعداد کے لحاظ سے 2005 اور 2024 کے درمیان اسپتالوں میں45 سے 64 سال کی عمر کے 38,481 افراد کی موت ہوئی جبکہ 25 سے 44 سال کے18222 لوگوں نے کینسرکی وجہ سے اپنی جان گنوائی۔
یہ بھی پڑھیں : پوری دنیا میں کینسر کے معاملے بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں!
صنفی بنیاد پر دیکھا جائے تواعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مردوں میں کینسر سے موت زیادہ درج کی گئی۔ اس عرصے کے دوران مردوں کی تقریباً 55,300 اور خواتین کی 37,600 سے زیادہ ادارہ جاتی اموات ہوئیں۔ حالانکہ عمر کا پیٹرن دونوں میں تقریباً یکساں ہی رہا۔ مردوں میں جہاں 45 سے 64 سال کی عمر میں تقریباً 40 فیصد اموات ہوئیں، وہیں خواتین میں 43 فیصد سے زیادہ اموات درج کی گئیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق 25 سے 44 سال کی عمر میں خواتین کی تعداد مردوں سے کچھ زیادہ رہی جس کا تعلق چھاتی اور سروائیکل کینسر جیسی بیماریوں سے بتایا جارہا ہے۔
خواتین میں چھاتی کے کینسر سے 411 اور رحم کے کینسر سے 194 اموات درج کی گئیں۔ وہیں مردوں میں سانس کے کینسر سے 553 اور پرواسٹیٹ کینسر سے 117 اموات کی اطلاع ہے۔ تمباکو سے متعلق کینسر بھی موت کی ایک بڑی وجہ رہی۔ منہ کے کینسر سے مردوں میں 607 اور خواتین میں 214 اموات ہوئیں۔ اس کے علاوہ نظام ہضم سے متعلق کینسر جیسے معدہ، آنت اور لبلبہ نے بھی کافی تعداد میں جانیں لی ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔