شہریت ترمیمی بل کو مودی کابینہ کی منظوری، مسلمانوں کو شامل نہ کرنے پر اپوزیشن چراغ پا

شہریت (ترمیمی) بل غیر قانونی مہاجروں کو شہریت دینے کے لیے سٹیزن شپ ایکٹ 1955 کو ترمیم کرنے کے مقصد سے لایا گیا ہے۔ اس بل میں مسلمانوں کو شامل نہیں کرنے سے اپوزیشن اور اقلیتی ادارے ناراض ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مرکز کی مودی کابینہ نے بدھ کو شہریت (ترمیمی) بل 2019 کو اپنی منظوری دے دی۔ یہ بل اگر پارلیمنٹ میں پاس ہو کر قانون بن گیا تو پھر پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں ظلم کے شکار ہندو، عیسائی، سکھ، پارسی، جین اور بودھ مذہب کے لوگوں کو ہندوستان کی شہریت دی جا سکے گی۔ شہریت حاصل کرنے کے لیے ان لوگوں کو کم از کم 6 سال ہندوستان میں گزارنے پڑیں گے۔ شہریت ترمیمی بل سے پہلے شہریت حاصل کرنے کے لیے ہندوستان میں رہنے کی مدت 11 سال کی تھی۔

یہ بل اس لیے لایا جا رہا ہے تاکہ چنندہ طبقات کے غیر قانونی مہاجروں کو شہریت دلانے کے سٹیزن شپ ایکٹ 1955 میں ترمیم ہو سکے۔ اس بل میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے جس کی خبر سن کر اپوزیشن، اقلیتی اداروں اور دیگر کچھ تنظیموں نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے بل کی مخالفت اس لیے بھی کی ہے کہ یہ آئین کے خلاف ہے، کیونکہ آئین مذہب کی بنیاد پر کسی شہری سے تفریق نہیں کرتا ہے۔

اس بل کا کانگریس، ترنمول کانگریس، ڈی ایم کے، سماجوادی پارٹی، آر جے ڈی اور بایاں محاذ جیسی اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعہ زوردار طریقے سے مخالفت کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی پارٹیوں نے بھی اس پر اعتراض درج کرایا ہے۔ شمال مشرق میں بھی اس بل کی زبردست مخالفت ہوئی ہے۔

شہریت (ترمیمی) بل 2019 کے علاوہ مرکزی کابینہ نے آج یعنی بدھ کو جموں و کشمیر ریزرویشن (دوسری ترمیم) بل 2019 کو بھی کابینہ کی طرف سے منظوری مل گئی ہے۔ پارلیمنٹ کے رواں اجلاس میں بل کو پیش کیا جائے گا۔