ویڈیو: مٹیا محل کے رائے دہندگان کے لئے ’سی اے اے‘ سب سے بڑا مسئلہ

مٹیا محل اسمبلی حلقہ میں مسلم اقلیت زبردست تذبذب کا شکار ہے۔ وہ جہاں عام آدمی پارٹی کے امیدوار سے سخت ناراض ہیں، وہیں وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ کہیں ان کے ووٹوں کی تقسیم سے بی جے پی کو فائدہ تو نہیں ہوگا

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

سید خرم رضا

ترکمان گیٹ سے جیسے ہی پرانی دہلی یعنی شاہجہاں آباد میں داخل ہوں گے تو وہیں پر حج منزل کے صدر دروازہ کے سامنے ایک بڑا سا ٹینٹ لگا ہوا ملے گا جس میں علاقہ کی خواتین دن رات شہریت ترمیمی قانون اور مجوزہ این آر سی کو ختم کرنے کے لئے مظاہرہ پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ مرکزی حکومت تو اس تعلق سے کوئی بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، مگر دہلی کی کیجریوال حکومت جس کی بنیادیں یہاں کے اقلیتی ووٹوں پر ٹکی ہوئی ہیں وہ بھی خاموش ہے۔ اس مظاہرہ گاہ سے چند سو میٹر پر کانگریس کے امیدوار مرزا جاوید علی کے انتخابی جلسہ میں علاقہ کے لوگوں کی کافی بھیڑ تھی جس میں فلم اداکارہ نغمہ نے بھی شرکت کی۔ یہاں سے چند روز قبل کانگریس چھوڑ کر عآپ میں شامل ہوئے پانچ مرتبہ رکن اسمبلی رہے شعیب اقبال عام آدمی پارٹی کے امیدوار ہیں اور ان کے تعلق سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہ ہر مرتبہ ایک نئی پارٹی سے چناؤ لڑتے ہیں۔ علاقہ کے سابق کونسلر اشوک جین کا کہنا ہے ’’جب تک وہ کاغذات نامزدگی داخل نہ کر دیں تب تک نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کس پارٹی میں ہیں‘‘۔

ویڈیو: مٹیا محل کے رائے دہندگان کے لئے ’سی اے اے‘ سب سے بڑا مسئلہ

مٹیا محل اسمبلی حلقہ میں مسلم اقلیت زبردست تذبذب کا شکار ہے۔ وہ جہاں عام آدمی پارٹی کے امیدوار سے سخت ناراض ہیں، وہیں وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ کہیں ان کے ووٹوں کی تقسیم سے بی جے پی کو فائدہ تو نہیں ہوگا۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ایک مقر کہتے ہیں ’’یہ خوف آپ اپنے ذہن سے نکال دیجیے کہ اس اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کا امیدوار جیت جائے گا، یہاں سے آج تک کبھی بھی بی جے پی کا امیدوار نہیں جیتا ہے۔‘‘ شعیب اقبال جنہوں نے کئی پارٹیوں سے اس علاقہ سے چناؤ لڑا ہے اور سال 2015 کو چھوڑ دیا جائے تو وہ ہمیشہ کامیاب ہوئے ہیں۔ اس مرتبہ وہ اسی پارٹی سے چناؤ لڑ رہے ہیں جس نے ان کو سال 2015 میں شکست دی تھی۔

ویڈیو: مٹیا محل کے رائے دہندگان کے لئے ’سی اے اے‘ سب سے بڑا مسئلہ

مٹیا محل اسمبلی حلقہ میں سب سے زیادہ پہچانے جانے والا سیاسی چہرا شعیب اقبال کا ہی ہے لیکن لوگ ان سے زبردست ناراض بھی ہیں، لوگوں سے بات کرنے کے بعد ناراضگی کی دو وجہ نظر آ تی ہیں۔ ایک لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ایسے موقع پر جب مسلمان شہریت ترمیمی قانون کے خلاف سڑکوں پر ہیں اور کانگریس ان کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ عآپ انتخابی مصلحتوں کی وجہ سے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہو رہے مظاہروں سے دوری بنائے ہوئے ہے ایسے وقت میں انہوں نے کانگریس کیوں چھوڑی اور عآپ میں شمولیت کیوں اختیار کی۔ دوسری ناراضگی کی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ ان کے 21 سالہ دور میں علاقہ میں بنیادی کام نہیں ہوئے۔ مٹیا محل کے ایک دوکاندار کا کہنا تھا کہ ’’کیجریوال نے ایسا امیدوار دیا ہے جس کی وجہ سے علاقہ بیس سال پیچھے پہنچ گیا ہے‘‘۔

مٹیا محل اسمبلی حلقہ کے لوگوں کو اسکول اور طبی سہولیات سے زیادہ مطلب نظر نہیں آتا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ مفت بجلی اور مفت پانی کی وجہ سے ان کو کیجریوال پسند ہے۔ کانگریس کے امیدوار مرزا جاوید کا کہنا ہے ’’مفت کے چکر میں اگر رہے تو جب شہریت ختم ہو جائے گی تو نظر بندی کیمپ میں سب کچھ مفت ملے گا۔ اس وقت بنیادی مسئلہ شہریت ہے اور اس پر کانگریس ہی مودی حکومت کے سامنے کھڑ ی ہوئی ہے اور اسی وجہ سے بی جے پی پریشان ہے۔ جو پارٹی (عآپ) انتخابات جیتنے کے لئے بنیادی اصولوں سے سمجھوتہ کر سکتی ہے اس سے بعد میں کیا امید کی جا سکتی ہے کہ وہ سمجھوتہ نہیں کرے گی۔‘‘ علاقہ کے بزرگ شہری کا کہنا تھا کہ ’’یہ بہت نازک دور ہے اس وقت ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ سی اے اے اور این آر سی کی ہماری لڑائی میں ہمارے ساتھ کون کھڑا ہے اگر ہم نے اپنے ساتھ کھڑے ہونے والے کا ساتھ نہیں دیا تو کل کو وہ بھی ہمارا ساتھ چھوڑ سکتا ہے اور وہ اس ملک کے لئے بہت خراب ہوگا۔ اس لئے ان انتخابات کو بجلی، پانی سے جوڑ کر نہ دیکھیں، بات اب کافی آگے پہنچ گئی ہے‘‘۔

ویڈیو: مٹیا محل کے رائے دہندگان کے لئے ’سی اے اے‘ سب سے بڑا مسئلہ

مٹیا محل اسمبلی حلقہ میں کل رجسٹرڈ ووٹر ایک لاکھ پندرہ ہزار کے آس پاس ہیں اور سال 2015 میں تقریباً 70 فیصد رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا جس میں عام آدمی پارٹی کے امیدوار عاصم احمد خان 47 ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے اور کانگریس کے شعیب اقبال کو محض 21 ہزار ووٹ ملے تھے۔ اس سے قبل 2013 میں شعیب اقبال جنتا دل یو سے لڑے تھے اور 22 ہزار ووٹ لے کر پہلے نمبر پر تھے جبکہ کانگریس کے مرزا جاوید تقریباً بیس ہزار ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے اور عآپ کے شکیل انجم 18 ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر تھے، سال 2008 میں شعیب اقبال رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی کے انتخابی نشان پر لڑے تھے اور 25 ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے جبکہ کانگریس کے محمود ضیاء کو 17 ہزار ووٹ ملے تھے لیکن اس مرتبہ بی ایس پی کو 11 ہزار سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔ ووٹنگ کے رجحان سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں پر بی ایس پی اور اقلیتوں کے ووٹوں کی اہمیت ہے اور اس کی وجہ سے کانگریس کے امیدوار اس مرتبہ کافی پر امید نظر آتے ہیں۔ مقامی شخص کا کہنا تھا ’’حال ہی میں عآپ چھوڑ کر کانگریس میں آئے کونسلر راکیش کمار کی وجہ سے کانگریس کو کافی فائدہ ہوا ہے‘‘

اس وقت مٹیا محل حلقہ کا ووٹر خاموش ہے وہ یہ دیکھ رہا کہ کون بی جے پی کو روک سکتا ہے اور اس کے ذہن میں سی اے اے اور این آر سی حاوی ہے جس کی وجہ سےعام آدمی پارٹی کو شعیب اقبال کا اور شعیب کو عام آدمی پارٹی کے سی اے اے پر موقف کا نقصان ہو سکتا ہے۔ مسلم ووٹر تمام حالات پر بہت باریکی سے نظر رکھے ہوئے ہیں اور سب کو ۱۱ فروری کا انتظار ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 05 Feb 2020, 12:11 PM