مولانا اسرارالحق قاسمی ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک

کشن گنج سے رکن پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی دارالعلوم دیوبند کے مجلس شوری کے رکن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ کے ممبر تھے۔ ان کی عمر 76 برس کی تھی اور پسماندگان میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

By یو این آئی

نئی دہلی:کشن گنج سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اورمعروف قومی و ملی رہنما مولانا اسرارالحق قاسمی کو ان کے ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں ان کے آبائی گاؤں ٹپو کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔مولانا کادیر رات دل کا دورہ پڑنے سے ساڑھے تین بجے کشن گنج کے سرکٹ ہاؤس میں انتقال ہوگیا تھا۔

مولاناکی نماز جنازہ میں سیمانچل بلکہ سارے ہندوستان سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جن میں ارریہ کے ایم پی سرفرازاحمد،بنگال کے وزیر غلام ربانی ،ایم ایل اے حاجی سبحان،ایم ایل اے شکیل احمدخان، سابق ایم ایل اے اَخترالایمان سمیت درجن بھر سے زائد ممبران اسمبلی وممبران پارلیمنٹ اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شامل ہیں۔ مولانا کی نماز جنازہ ملی گرلس اسکول کے احاطے میں ادا کی گئی۔

کشن گنج سے رکن پارلیمنٹ و سیاسی و ملی رہنمامولانا اسرارالحق قاسمی دارالعلوم دیوبند کے مجلس شوری کے رکن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ کے ممبر تھے۔ ان کی عمر 76 برس کی تھی اور پسماندگان میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

مولاناکے بڑے داماد فیاض عالم نے بتایا کہ مولانا کل رات کسی پروگرام سے واپس آئے تھے اور کشن گنج کے سرکٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ مولانا جب رات تین بجے تہجد کی نماز کے لئے اٹھے تو انہیں درد محسوس ہوا۔ انہوں نے سیکورٹی والوں کو بلوایا اور کہا کہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے چلو۔جب انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جارہا تھا انہوں نے کہا میں آللہ کے پاس جارہاہوں۔ مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو معاف کردینا۔ مولانا یہ بھی کہا کہ سب لوگ مجھے معاف کردیں اور میرے لئے مغفرت کی دعا کریں۔

مولانا قاسمی کشن گنج سے دوبار رکن پارلیمنٹ رہے۔ کشن گنج میں اے ایم یو سنٹر کے قیام میں بہت اہم رول رہا اور پوری تحریک کی قیادت کی تھی۔ یہ سنٹر جو کٹیہار میں قائم ہونے والا کشن گنج لیکر آئے اور آخری عمر اس سنٹر کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ اس کے علاوہ مولانا جمعیۃ علمائے ہند (متحدہ) کے دس سال تک جنرل سکریٹری بھی بھی رہے تھے۔ مولانا نے مولانا وحیدالزماں کیرانوی رحمتہ اللہ کے ساتھ ملکر ملی جمعیتہ قائم کی تھی۔ اس کے بعد وہ ملی کونسل کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل بنائے گئے تھے۔ ان کی قیادت اور تنظیمی تجربہ کی بنیاد پر ملی کونسل ایک وقت ملک کی بڑی جماعت بن گئی تھی۔

مولانا قاسمی جو دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ تھے،انہوں نے ملی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے آل انڈیا تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن قائم کیا تھا۔ جس کے تحت فلاحی کام کئے جاتے تھے۔ ملک میں متعدد مدارس و مکاتب چل رہے تھے۔ مولانا نے عصری تعلیم کے میدان میں بھی کام کیا تھا۔ انہوں نے کشن گنج کے اپنے آبائی گاؤں میں لڑکیوں کا بارہویں کلاس کا ایک معیاری ملی گرلس اسکول قائم کیا تھا۔ جس کا معیار دینی تعلیم کے ساتھ کسی بھی معیاری اسکول سے کم نہیں ہے۔اسی کے ساتھ مولانا ہندوستان میں پھیلے سیکڑوں مدارس کے سرپرست تھے اور مدارس کے پروگراموں میں شرکت کو ترجیح دیتے تھے۔

اظہار تعزیت کرنے والی شخصیات میں وزیر اعظم نریندر مودی، کانگریس کے صدر راہل گاندھی،بہارکے وزیر اعلیٰ نتیش کمار،اپوزیشن لیڈرتیجسوی یادو،شردیادو، امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی ،دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانامفتی ابوالقاسم نعمانی،دارالعلوم وقف کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی،مولانا بدرالحسن قاسمی کویت،شیخ الحدیث مولانا افتخار حسین مدنی،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر،جمعیۃ علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمودمدنی ،زکوۃ فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر ظفر محمود،مولانا عبدالحمید نعمانی ،مولاناحکیم افضل قاسمی ،مولانا ابوالکلام شمسی ،مسعود جاوید،مفتی اشرف عباس قاسمی ،راشٹریہ علماء کونسل کے مولانا طاہر مدنی ،جمعیۃ علمائے بہار کے صدر مولانا محمد قاسم ،جامعہ ربانی منورواشریف کے مہتمم مفتی اختر امام عادل،،جمعیۃ علمائے مہاراشٹر کے مفتی حذیفہ قاسمی ،جمعیۃ علماء گجرات کے صدر مولانا اسجد قاسمی ،طیب ٹرسٹ دیوبند کے چیئر مین حافظ عاصم ،جمعیۃ علماء ہریانہ کے ناظم اعلیٰ مولانا علی حسن مظاہری وغیرہ کے نام خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے متعدد سیاسی، سماجی، علمی، معاشی اور دیگر لوگوں نے مولاناکے انتقال کو عظیم خسارہ قرار دیتے ہوئے اظہار تعزیت کیا ہے۔