اس وقت ’نیا پارلیمنٹ ہاؤس‘ بنانا آخری رسومات کے وقت ’ڈی جے‘ بجانے جیسا: کانگریس

پی ایم مودی نے جمعرات کو نئے پارلیمنٹ ہاؤس کا سنگ بنیاد رکھا اور اس کا ’بھومی پوجن‘ بھی کیا۔ کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں بحران کے اس وقت میں حکومت کے اس قدم کی سخت تنقید کر رہی ہیں۔

جے ویر شیرگل، تصویر آئی اے این ایس
جے ویر شیرگل، تصویر آئی اے این ایس
user

آصف سلیمان

پی ایم نریندر مودی نے جمعرات کو نئے پارلیمنٹ ہاؤس کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ کانگریس نے اس قدم کو ’آخری رسومات کے وقت ڈی جے بجانے‘ جیسا قرار دیا ہے۔ کانگریس نے کہا کہ ملک میں مختلف اداروں کا ’ڈی ویلیویشن‘ ہو رہا ہے۔ کانگریس ترجمان جے ویر شیرگل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے کا فیصلہ بے دردی، بے حسی اور بے شرمی سے بھرا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک معاشی بحران کے دور سے گزر رہا ہے۔ بی جے پی لوگوں کو راحت دینے کی جگہ فالتو کا جلوس نکال رہی ہے۔‘‘

کانگریس ترجمان نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’حکومت کا یہ قدم آخری رسومات کے وقت ڈی جے بجانے کے برابر ہے۔ ایک طرف سیاہ زرعی قوانین کے ذریعہ سے بی جے پی نے کسانوں کی روزی روٹی پر بلڈوزر چلا دیا، دوسری طرف وہ عوام کا پیسہ عمارت تعمیر پر خرچ کر رہی ہے، جس کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن وہ ایسا اپنی انا کو مطمئن کرنے کے لیے کر رہی ہے۔‘‘ جے ویر شیرگل نے مزید کہا کہ سنٹرل وِسٹا پروجیکٹ کے تحت نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی بنیاد رکھنے کا کام ’کسانوں سے روٹی چھیننے کے بعد کیک کی دکان کھولنے‘ جیسا ہے۔

کانگریس کے قومی ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے بھی مرکزی حکومت کے اس قدم کی سخت الفاظ میں تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’عزت مآب مودی جی، پارلیمنٹ پتھر سے بنی عمارت نہیں، پارلیمنٹ جمہوریت ہے، پارلیمنٹ آئین کے اصولوں کو ماننا ہے، پارلیمنٹ معاشی اور سماجی برابری ہے، پارلیمنٹ ملک کا بھائی چارہ اور خیر سگالی ہے، پارلیمنٹ 130 کروڑ ہندوستانیوں کی امید ہے۔ ضرور سوچیے، ان سب کو روند کر بنائی گئی نئی پارلیمنٹ کی عمارت کیسی ہوگی؟‘‘

واضح رہے کہ پی ایم نریندر مودی نے جمعرات کو نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی بنیاد کا پتھر رکھا اور اس کا ’بھومی پوجن‘ بھی کیا۔ 64500 اسکوائر میٹر میں چار منزلہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت 971 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہوگی۔ کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے اس بحران کے وقت میں مرکزی حکومت سے سنٹرل وِسٹا پروجیکٹ کو رد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔