یوپی اسمبلی میں آج پیش ہوگا بجٹ، رواں سال انتخابات کے پیش نظر ناراض طبقات کو ہوگی خوش کرنے کی کوشش
یہ بجٹ یوگی حکومت کی دوسری مدت کار کا آخری مکمل بجٹ ہوگا۔ اس کے بعد رواں سال 2027 کے اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ ایسے حالات میں اس بجٹ پر عام لوگوں کی نظریں مرکوز ہیں

اترپردیش اسمبلی انتخابات 2027 سے پہلے یوگی حکومت کی دوسری میعاد کار کا آخری بجٹ آج پیش کیا جائے گا۔ ریاست کے وزیر خزانہ سریش کھنہ صبح 11 بجے اسمبلی کے ایوان میں بجٹ 2026 پیش کریں گے۔ اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اس سال کا بجٹ کئی لحاظ سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ ریاست میں بے روزگاری، نظم و نسق کی بدحالی کے حوالے سے عوام میں پائی جانے والی ناراضگی پر قابو پانے کی کوشش کے تحت کچھ خوش کن اعلانات کئے جا سکتے ہیں کیونکہ پسماندہ طبقات بالخصوص خواتین، نوجوان اور کسانوں کے مسائل پر پچھلے کافی عرصہ سے یوگی حکومت کی تنقید کی جا رہی ہے۔
اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے سے پہلے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں کابینہ کی میٹنگ ہوگی جس میں اس بجٹ کو منظوری دی جائے گی۔ کہا جارہا ہے کہ اس بار کا یوگی حکومت کا بجٹ سب سے بڑا ہوسکتا ہے۔ یہ بجٹ یوگی حکومت کی دوسری مدت کار کا آخری مکمل بجٹ ہوگا۔ اس کے بعد رواں سال 2027 کے اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ ایسے حالات میں اس بجٹ پرعام لوگوں کی نظریں مرکوزہیں۔
یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کا یہ بجٹ انتخابی سال کے پیش نظر کافی اہم سمجھا جارہا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس بجٹ میں خواتین، نوجوانوں، کسانوں اوردیگر ناراض طبقات کے حوالے سے کچھ اعلان کرسکتی ہے ۔ بہارمیں خواتین کو خوش کرنے کے لئے انتخابات سے عین قبل خود روزگار اسکیم کا اعلان کیا گیا تھا، اسی طرز پر یوگی حکومت کی جانب سے بھی کوئی قدم اٹھایا جاسکتا ہے تاکہ انتخابات میں ان کی حمایت حاصل کی جاسکے۔
یوگی حکومت میں کسانوں کی ناراضگی اب بھی برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق ریاستی حکومت کسانوں کی موجودہ ناراضگی پر قابو پانے اورانتخابات کے پیش نظرکچھ کسان حامی اعلانات کئے جاسکتے ہیں تاکہ انتخابات میں ان کی ناراضـگی سے ہونے والے نقصان سے بچا جاسکے۔ اس سے پہلے وزیر خزانہ سریش کھنہ نے کہا تھا کہ حکومت نے بجٹ 2026 میں عام لوگوں کی امنگوں کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں ہر طبقہ کا دھیان رکھا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ بجٹ میں نوجوانوں، خواتین، مزدوروں اور کسانوں کے مفادات کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔