بی ایس پی کا اکالی دل سے اتحاد، آئندہ پنجاب اسمبلی انتخابات ساتھ مل کر لڑنے کا اعلان

پنجاب میں اگلے سال 2022 میں ہونے جا رہے اسمبلی انتخابات سے قبل اکالی دل اور بی ایس پی نے اتحاد کر لیا ہے، اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل نے اتحاد کا اعلان کیا

تصویر ٹوئٹر
تصویر ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

چنڈی گڑھ: پنجاب میں 2022 کے اسمبلی انتخابات سے قبل شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے اتحاد کر لیا ہے۔ مرکز کے متنازعہ زرعی بل کے خلاف ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اکالی دل نے گزشتہ سال بی جے پی سے ناطہ توڑ لیا تھا۔ اکالی دل کے سربراہ سکھبیر سنگھ بادل نے ہفتہ کے روز اتحاد کا باضابطہ طور پر اعلان کیا۔

سکھبیر سنگھ بادل کی زیرقیادت پارٹی اس اتحاد کے ذریعے گزشتہ سال ستمبر میں بی جے پی سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد کئی نشستوں کے خلا کو پُر کرنا چاہتی ہے۔ ریاست میں آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی ایس پی 20 اور اکالی دل 97 سیٹوں پر مقابلہ کرے گی۔


اکالی دل اور بی ایس پی 1996 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے 27 سال بعد ایک دوسرے سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔ خیال رہے کہ 1996 کے لوک سبھا انتخابات میں دونوں جماعتوں کے اتحاد نے پنجاب کی 13 میں سے 11 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ مایاوتی کی زیرقیادت بی ایس پی نے 3 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ اکالی دل نے 10 میں سے آٹھ سیٹیں جیت لی تھیں۔

حال ہی میں اتحاد کے سوال پر سکھبیر بادل نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی کانگریس، بی جے پی اور اروند کیجریوال کی قیادت والی عام آدمی پارٹی (عآپ) کے علاوہ کسی کے ساتھ بھی اتحاد کے لئے تیار ہے۔ 58 سالہ اکالی دل کے روہنما نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ’’ہم ان پارٹیوں کے ساتھ اتحاد نہیں کر سکتے۔ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘‘ ریاست میں 31 فیصد دلت ووٹوں پر بی ایس پی کی اچھی گرفت ہے۔ دوآبا خطے میں 23 سیٹوں پر دلت ووٹ فیصلہ کن صورت حال میں ہیں۔ پنجاب میں دلت آبادی تقریبا 40 فیصد ہے۔


اکالی دل نے گزشتہ سال ستمبر میں این ڈی اے کے ساتھ تین زراعت سے متعلق بلوں کی مخالفت میں این ڈی اے سے رشتے ختم کر لئے تھے۔ جیسے ہی بلوں کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا، وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ میں واحد اکالی کی وزیر ہرسمرت کور بادل نے استعفیٰ دے دیا۔ اس پیشرفت کے ایک ہفت کے بعد ہی سکھبیر بادل نے زرعی قوانین کو مہلک اور تباہ کن قرار دیتے ہوئے این ڈی اے سے اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔