بی ایس 4 گاڑی: ناراض سپریم کورٹ نے حکم واپس لے لیا

بنچ نے ناراضگی کے سبب اپنا سابقہ فیصلہ واپس لے لیا، یعنی اب 31 مارچ کے بعد فروخت بی ایس۔4 گاڑیوں کا رجسٹریشن نہیں ہوگا، اگر ان گاڑیوں کی تفصیلات ’ای واہن‘ پر اپلوڈ نہیں ہوئی ہوگی۔

سپریم کورٹ 
سپریم کورٹ
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بی ایس۔4 اخراج کے معیار والی گاڑیوں اور رجسٹریشن کے سلسلے میں 27 مارچ کا حکم بدھ کے روز واپس لے لیا۔ جسٹس ارون مشرا کی صدارت والی بنچ نے اپنے سابقہ فیصلے کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے سلسلے میں فیڈریشن آف آٹوموبائل ڈیلر ایسوسی ایشن (ایف اے ڈی اے) کی زجر توبیخ کی۔

بنچ نے کہا کہ اس نے ایف اے ڈی اے کی درخواست پر لاک ڈاؤن کا خیال کرتے ہوئے 31 مارچ کے بعد بی ایس۔4 گاڑیوں کی فروخت کا حکم ایک متعینہ وقت کے لیے دیا گیا تھا لیکن گاڑی بنانے والی کمپنیوں نے اس کا غلط فائدہ اٹھایا۔

بنچ نے اسی ناراضگی کے سبب اپنا سابقہ فیصلہ واپس لے لیا جس کے سبب 31 مارچ کے بعد فروخت بی ایس۔4 گاڑیوں کا رجسٹریشن نہیں ہو سکے گا اگر گاڑی فروخت کرنے والوں نے ان گاڑیوں کی تفصیلات ’ای واہن‘ پر اپلوڈ نہیں کی ہوگی۔

ایف اے ڈی اے کی جانب سے پیش وکیل کے وی وشوناتھن نے فروخت شدہ گاڑیوں کے رجسٹریشن کے سلسلے میں ہونے والے مسائل کا ذکر کیا لیکن عدالت نے اس پر کان نہیں دھرا۔ جسٹس مشرا نے کہا کہ ایف اے ڈی اے کی درخواست پر لاک ڈاؤن کے نقصانات کی بھرپائی کے لیے انہوں نے بی ایس۔4 گاڑیوں کی فروخت کے لیے 10 دنوں کی اضافی مہلت دی تھی۔

بنچ نے کہا، ’ہمارے حکم کے ساتھ فریب کیا گیا ہے۔ ہم نے ایک لاکھ پانچ ہزار گاڑیوں کو بیچنے کی اجازت دی تھی لیکن گاڑی بنانے والی کمپنیوں نے 10 دن کے اندر دو لاکھ 55 ہزار گاڑیاں فروخت کر دیں‘۔ عدالت نے سوال کیا کہ متعینہ حد سے زیادہ گاڑیاں کیسے فروخت ہوئیں؟ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 23 جولائی کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے اس دن ای۔واہن پورٹل کا ڈاٹا بھی طلب کیا ہے۔

next