ارنب گوسوامی کے چینل ’ریپبلک بھارت‘ پر برطانیہ میں لگا جرمانہ، جانیے کیوں

’دی برٹش براڈکاسٹنگ ریگولیٹر‘ نے ارنب گوسوامی کے چینل ’ریپبلک بھارت‘ ہندی نیوز چینل کو براڈکاسٹ کرنے کا لائسنس رکھنے والی کمپنی پر برطانیہ میں 20 ہزار یورو یعنی تقریباً 18 لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا ہے

ارنب گوسوامی، تصویر آئی اے این ایس
ارنب گوسوامی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ارنب گوسوامی کے چینل ’ریپبلک بھارت‘ پر ہندوستان میں انگلیاں اٹھتی رہی ہیں۔ چینل پر ٹی آر پی میں دھاندلی کرنے کا بھی الزام عائد ہوا ہے۔ فی الحال ٹی آر پی معاملہ میں کارروائی چل رہی ہے، لیکن اس درمیان ’دی برٹش براڈکاسٹنگ ریگولیٹر‘ نے ارنب گوسوامی کے ’ریپبلک بھارت‘ ہندی نیوز چینل کو براڈ کاسٹ کرنے کا لائسنس رکھنے والی کمپنی پر برطانیہ میں 20 ہزار یورو یعنی تقریباً 18 لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا ہے۔ چینل پر ’ہیٹ اسپیچ‘ یعنی اشتعال انگیز تبصروں سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں یہ جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

برطانیہ کی ’آفس آف کمیونکیشنز‘ نے چینل کا لائسنس رکھنے والی کمپنی ورلڈ ویو میڈیا نیٹورک لمیٹڈ کے خلاف حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’پوچھتا ہے بھارت پروگرام میں بہت ساری بلامطلب کی اشتعال انگیز تقریریں موجود ہیں اور یہ بہت ہی زیادہ مشتعل کرنے والا ہے۔ یہ رول 2.3، 3.2 اور 3.3 کی خلاف ورزی کرتا ہے۔‘‘ برطانیہ کے براڈکاسٹنگ کوڈ کے رول 2.3 کے مطابق کسی براڈکاسٹر کو یقینی کرنا چاہیے کہ کوئی بھی اشتعال انگیز بیان کانٹیکسٹ کو جسٹیفائی کرنی چاہیے۔ کسی مذہب یا عقیدہ کے خلاف تفریق آمیز اور غلط زبان کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ رول 3.2 کے مطابق ’ہیٹ اسپیچ‘ والے حصے کو براڈکاسٹ نہیں کرنا ہے۔ اگر کانٹیکسٹ جسٹیفائیڈ ہو تو اسے چلایا جا سکتا ہے۔ رول 3.3 کے مطابق کسی شخص، گروپ، مذہب یا طبقہ کے خلاف قابل اعتراض اور غلط تبصرہ کو براڈکاسٹ نہیں کرنا ہے۔


کمپنی پر یہ کارروائی پاکستانی لوگوں کے خلاف ایک پروگرام میں قابل اعتراض اور نامناسب تبصرہ کرنے کے الزام میں کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ انھیں صرف شہریت کی بنیاد پر بے عزت کیا گیا، جو ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔ ’دی برٹش براڈکاسٹنگ ریگولیٹری‘ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ’’پروگرام میں کہی گئی باتوں سے کسی کے بھی جذبات کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔ ’آف کام‘ کی نظر میں یہ جرم ہے، ’پوچھتا ہے بھارت‘ پروگرام میں بغیر کانٹیکسٹ لوگوں کی بے عزتی کی گئی ہے۔ پاکستانی لوگوں کے خلاف یہ ’ہیٹ اسپیچ‘ کا معاملہ ہے۔ بھارت اور پاکستان کے لوگوں کے درمیان یہ تفریق کو بڑھانے والا معاملہ ہے۔‘‘

جرمانہ لگائے جانے کے بعد کمپنی نے ’ریپبلک بھارت‘ کے کچھ پروگرام کو براہ راست نشر نہیں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حالانکہ ہندی نیوز پورٹل ’جن ستّا‘ میں شائع ایک خبر کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ قصداً اصول و ضوابط کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔