بی ایم سی انتخابی نتائج سے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل، ادھو ٹھاکرے کا فڑنویس اور ایکناتھ شندے پر حملہ
مہاراشٹر بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ شیو سینا (ادھو گروپ) اوراس کے اتحادیوں کا دعویٰ ہے کہ بڑے پیمانے پرانتخابات میں طاقت اور پیسے کا استعمال ہوا۔

ممبئی سمیت مہاراشٹر کے 29 میونسپل کارپوریشن انتخابات (بی ایم سی) کے نتائج نے ریاست کی سیاست میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ اب تک ممبئی میونسپل کارپوریشن پر شیوسینا (ٹھاکرے گروپ) کا غلبہ رہا ہے حالانکہ تازہ نتائج کے بعد سوال اٹھنے لگے ہیں کہ کیا ممبئی میں مراٹھی قیادت کی یہ روایت آئندہ بھی برقرار رہ پائے گی؟ اس دوران ’حرام کے پیسوں کی کھنکھناہٹ‘ سرخی کے ساتھ ’سامنا‘ میں شائع ایک مضمون میں بھی ایسے ہی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
’اے بی پی‘ نیوز کی رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ شیو سینا (ادھو گروپ) اوراس کے اتحادیوں کا دعویٰ ہے کہ بڑے پیمانے پرانتخابات میں طاقت اور پیسے کا استعمال ہوا۔ ووٹر لسٹوں سے نام حذف ہونے، سیاہی سے متعلق بے ضابطگیوں اور انتظامی تعصب جیسے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ وہیں ’سامنا‘ میں مراٹھی شناخت، ایکناتھ شندے اور بی جے پی پر سخت حملہ کیا گیا ہے۔
’سامنا‘ کے شائع اداریے میں کہا گیا ہے کہ شیو سینا نے ممبئی کو 23 میئر دئیے، یہ سبھی میئر کٹر مراٹھی تھے۔ کیا یہ روایت آگے بھی جاری رہے گی؟ ایسے سوالات اٹھے اور ممبئی میں ایسے ہی نتائج سامنے آئے۔ مراٹھی شناخت، مراٹھی وقار کی شکست ایکناتھ شندے، دیویندر فڑنویس، آشیش شیلار اور امیت ستم جیسے مراٹھی لوگوں کی وجہ سے ہوئی جس میں انہیں الیکشن کمیشن کا پورا ساتھ ملا۔
’سامنا‘ کے اداریے میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کے لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ مہاراشٹر میں لہر ہے لیکن یہ لہر نہیں بلکہ اقتدار اور بدعنوان پیسوں کی لعنت ہے۔ بی جے پی اور شنڈے گروپ نے اس کرپٹ پیسے کے زور پر ممبئی پر قبضہ کرنے کے لیے کیا نہیں کیا؟ الیکشن کمیشن نے بھی اس الیکشن میں بہت گڑبڑیاں کیں۔ مراٹھی علاقوں میں ووٹروں کے نام ہٹا دیے گئے۔ انگلیوں سے سیاہی مٹانے کا انتظام کیا گیا۔
اداریہ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ سب جانتے ہیں کہ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ اس دوران وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس اور اجیت پوار کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات منظر عام پر آچکے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات بھلے ہی ختم ہو گئے ہوں لیکن مہاراشٹر کی سیاست میں ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ریاست میں حقیقی سیاسی لڑائی اب شروع ہو نے والی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔