مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات کی گنتی شروع، بی ایم سی سمیت 29 بلدیاتی اداروں کے نتائج ہوں گے جاری

مہاراشٹر میں بی ایم سی سمیت 29 بلدیاتی اداروں کے انتخابات کی ووٹ گنتی صبح 10 بجے شروع ہو چکی ہے۔ چار سال بعد ہونے والے ان انتخابات کے نتائج آئندہ 5 برس کی شہری سیاست کا رخ طے کریں گے

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مہاراشٹر میں برہن ممبئی بلدیہ سمیت 29 عظیم تر بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی کا عمل آج صبح 10 بجے سے شروع ہو چکا ہے۔ 15 جنوری کو منعقد ہونے والے ان انتخابات کے نتائج پر پورے صوبے کی نظریں جمی ہوئی ہیں، کیونکہ یہ انتخابات تقریباً 4 سال کی تاخیر کے بعد کرائے گئے ہیں اور ان کے ذریعے ریاست کی شہری سیاست کی سمت کا تعین ہوگا۔

گنتی کے آغاز سے قبل پورے صوبے میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ حساس مراکز پر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے اور گنتی کے تمام مقامات پر نگرانی کے سخت انتظامات موجود ہیں۔ حکام کے مطابق ووٹوں کی گنتی شفاف اور پرامن طریقے سے مکمل کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔

صرف بی ایم سی کی بات کی جائے تو 227 وارڈوں کے لیے تقریباً 1,700 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 879 خواتین اور 821 مرد شامل ہیں۔ بی ایم سی کے نتائج اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف ملک بلکہ ایشیا کی سب سے مالدار بلدیاتی اداروں میں شمار ہوتی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے لیے بی ایم سی کا بجٹ 74 ہزار 400 کروڑ روپے سے زائد ہے، جس کے باعث اس ادارے پر کنٹرول حاصل کرنا سیاسی طور پر انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔


ریاست بھر میں مجموعی طور پر 893 بلدیاتی اداروں کے 2,869 وارڈوں میں انتخابات کرائے گئے، جہاں 15,931 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ آج ہونے جا رہا ہے۔ ریاستی الیکشن کمیشن کے مطابق ان 29 عظیم تر بلدیات میں کل 3 کروڑ 48 لاکھ ووٹر رجسٹرڈ تھے۔ ووٹنگ کے دوران مجموعی طور پر 46 سے 50 فیصد کے درمیان رائے دہی درج کی گئی، تاہم بڑے شہروں میں ووٹنگ کا تناسب نسبتاً کم رہا۔

ممبئی، پونے، ناگپور، چھترپتی سمبھاجی نگر اور ناسک جیسے شہروں میں ووٹنگ فیصد چالیس کے آس پاس رہا، جو شہری علاقوں میں ووٹر بے رغبتی کی ایک بار پھر نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے باوجود سیاسی جماعتوں کو امید ہے کہ نتائج میں عوامی رجحانات واضح طور پر سامنے آئیں گے۔

آج آنے والے یہ نتائج محض جیت اور ہار تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ یہ بھی واضح کریں گے کہ شہری ووٹر آئندہ پانچ برسوں کے لیے کس طرز کی قیادت اور ترقیاتی ماڈل کو ترجیح دیتا ہے۔ بی ایم سی سمیت تمام 29 عظیم تر بلدیاتی اداروں کے نتائج مہاراشٹر کی شہری سیاست کی نئی تصویر پیش کریں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔