دوسروں کی وراثت پر قبضہ کا کھیل، ’تاریخ کے سچ‘ پر جھوٹ کی سیاہی پوتنے کی کوشش!

بات کانگریس کو کوسنے اور اسے بھلا برا کہنے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اب بی جے پی کانگریس کو کوس کوس کر، اس کی وراثت پر بھی قبضہ کرلینا چاہتی ہے۔

مضمون نگار: م. افضل

اپنی ساڑھے چار برس کی مدّت میں وزیراعظم نریندرمودی نے کانگریس کو کوسنے کے سوا کچھ نہیں کیا، ان کا کوئی بھی خطاب کوئی بھی تقریر اٹھاکر دیکھ لیں، بیشتر میں انہوں نے ہر مسائل کی جڑ کانگریس کو قرار دیا ہے، وہ یہ کہنا کبھی نہیں بھولتے کہ پچھلے 70 برس میں ملک کی تعمیر وترقی کا کوئی کام نہیں ہوا اور اب وہ اس عظیم خسارہ کو اپنی بہتر حکمرانی سے پورا کرنے کی ایماندارانہ کوشش کررہے ہیں لیکن اگر بھولے سے ان سے کوئی یہ سوال کرلیتا ہے کہ حضور، ان ساڑھے چار برس کی مدت میں آپ نے کیا کیا یا آپ کی سرکار کی حصولیابیاں کیا ہیں تو بھڑک اٹھتے ہیں اور کوئی معقول جواب دینے کی جگہ حسب عادت کانگریس کو کوسنے لگتے ہیں۔

بات کانگریس کو کوسنے اور اسے بھلا برا کہنے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اب وہ کانگریس کو کوس کوس کر، اس کی وراثت پر بھی قبضہ کرلینا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے وہ تاریخ کے سچ پر جھوٹ کی سیاہی پوتنے کی ناکام کوشش بھی کررہے ہیں۔ اس کے لئے سب سے پہلے انہوں نے سردار پٹیل کا انتخاب کیا جو ملک کے اولین وزیر داخلہ تھے اور گجرات سے تعلق رکھتے تھے۔ چنانچہ یہ پروپیگنڈہ شروع ہوگیا کہ کانگریس اور نہرو نے پٹیل کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ وزیراعظم اب بھی یہ کہتے ہیں کہ اگر نہرو کی جگہ پٹیل ملک کے وزیراعظم بن گئے ہوتے تو ملک میں جو مسائل پیدا ہوئے ہیں کبھی نہیں پیدا ہوسکتے تھے۔ پٹیل سے اپنی عقیدت کا اظہار کرنے کے لئے گجرات کے نرمدا ضلع میں ایک بہت بڑا ان کا مجسمہ نصب کرایا گیا ہے اور اس کے لئے پورے گجرات سے چندہ بھی کیا گیا۔ 31اکتوبر کو وزیراعظم اس کا باقاعدہ افتتاح بھی کرنے جا رہے ہیں۔

ایسا کرکے گویا یہ باور کرانے کی کوشش ہورہی ہے کہ پٹیل نظریاتی اعتبار سے آر ایس ایس کے بہت قریب تھے لیکن یہ بات تاریخی طورپر غلط ہے۔ مودی جی اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں کہ مہاتماگاندھی کے قتل کے بعد انہوں نے ہی آر ایس ایس پر پابندی لگائی تھی۔ یہی نہیں گاندھی قتل کے مقدمہ کے بعد جب آر ایس ایس کے اس وقت کے سربراہ ایم ایس گوالکرکو گرفتارکیا گیا، تو انہیں رہائی تب نصیب ہوئی جب انہوں نے یہ حلف لکھ کر دیا کہ آئندہ وہ اور ان کی تنظیم تشدد کا راستہ نہیں اپنائے گی۔ آر ایس ایس کے لوگ اس حلف نامہ کومعافی نامہ نہیں مانتے لیکن یہ بات اپنی جگہ سچ ہے کہ گوالکر کی رہائی معافی مانگنے کے بعد ہوئی تھی، پٹیل جنگ آزادی کے ایک عظیم مجاہد تھے لیکن 1920 سے 1947 تک چلنے والی آزادی کی لڑائی میں آر ایس ایس کا کوئی لیڈر شامل نہیں تھا یہاں تک کہ اس کے اس وقت کے دونوں بڑے لیڈر ہیڈگیوار اور گوالکرکبھی آزادی کی جدوجہد کے کسی پروگرام میں بھی شامل نہیں ہوئے۔ وزیر داخلہ بننے کے بعد پٹیل نے کچھ لوگوں کی شناخت انگریزوں کے دوست کے طورپر کی تھی ان میں کمیونسٹ بھی تھے جو 1942 میں ان کے خیر خواہ بن گئے تھے، متعدد راجہ مہاراجہ تھے لیکن فہرست میں سب سے بڑی تعداد آر ایس ایس کے لوگوں کی تھی۔

قوم پرستی کا نعرہ لگانے والی آر ایس ایس کی وطن سے محبت کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ 1942 میں جب مجاہدین آزادی نے ہندوستان چھوڑو کا نعرہ دیا تو اس کی پاداش میں تمام مجاہدین آزادی کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا تھا لیکن گوالکر سمیت آر ایس ایس کا کوئی ایک بھی لیڈر گرفتار نہیں ہوا۔ گوالکر نے تب ہندوؤں سے کہا تھا کہ انہیں انگریزوں سے لڑنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے اصل دشمن مسلمان، عیسائی اور کمیونسٹ ہیں۔ اسی نظریہ کو اپنے لوگوں میں تشہیر کرکے، انہیں انگریزوں سے نہیں لڑنے کی ہدایت دے رہے تھے، یہی وجہ ہے کہ ورثہ کے نام پر نہ تو آر ایس ایس کے پاس کچھ ہے اور نہ ہی بی جے پی کے پاس، چنانچہ اب انہوں نے دوسروں کی وراثت پر قبضہ کرنے کا ماسٹر پلان تیار کیا ہے۔ گاندھی اور ان کے فلسفہ کو وزیراعظم اپنے غیر ملکی دوروں میں خوب استعمال کرتے ہیں مگر واپس آتے ہی ان دونوں کو فراموش کردیتے ہیں۔ البتہ پٹیل کا معاملہ دوسرا ہے، انہوں نے آزادی کے بعد کچھ مسلم ریاستوں کو ہندوستان میں ضم کرنے میں کلیدی رول ادا کیا تھا اور اسی بات کو مشتہر بھی کیا جا رہا ہے اور اسی بنیاد پر ان لوگوں نے پٹیل کے تعلق سے یہ نظریہ قائم کرلیا ہے کہ وہ مسلم دشمن تھے جبکہ ایسا نہیں تھا، پٹیل ایک جمہوریت پسند سیاست داں تھے۔

وراثت پر قبضہ کرنے کے ماسٹر پلان کے اگلے حصہ کے طورپر اب نیتا جی سبھاش چندر بوس کو بھی اپنانے کی سرکاری کوشش ہوچکی ہے۔ گزشتہ دنوں مودی جی نے ایک تقریب کے ذریعہ دو غیر معمولی کارنامے انجام دے ڈالے۔ آزاد ہند حکومت کے قیام کے 75برس مکمل ہونے کی خوشی میں، جہاں انہوں نے نیتاجی کی اسٹائل والی ٹوپی پہن کر لال قلعہ پر قومی پرچم لہرایا وہیں 15اگست کے دن کی طرح ایک مجمع کو خطاب کرتے ہوئے نیتاجی سبھاش چندربوس کی قربانیوں کو یاد کیا، اس عظیم شخصیت کو خراج پیش کرنے کے لئے ایک بار پھر انہوں نے کانگریس کو کوسنے والا آزمودہ نسخہ استعمال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ نیتاجی ’’بانٹو اور راج کرو‘‘ پالیسی کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے نئے ہندوستان کا خواب دیکھا تھا۔ یعنی اس نئے ہندوستان کا خواب جو پچھلے ساڑھے چار برس سے موصوف، ہندوستان کے بھولے بھالے عوام کو دکھا رہے ہیں انہوں نے آگے کہا کہ آزادی کے اتنے برس بعد بھی نیتاجی کا خواب پورا نہیں ہوا ہے۔ گاندھی نہرو خاندان کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ ایک ہی خاندان کو بڑا بنانے کے لئے نیتاجی کے ساتھ ساتھ مردِ آہن سردار پٹیل اور آئین کے خالق ڈاکٹر امبیڈکر کو نظرانداز کردیا گیا اور یہ کہ اگر آزادی کے بعد ان لوگوں کی رہنمائی ملی ہوتی تو آج حالات دوسرے ہوتے۔

یہ ایک فطری رویہ ہے، انسان کے پاس جو چیز نہیں ہوتی، وہ اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے کچھ لوگ اس کے لئے محنت ایمانداری اور اخلاص کا راستہ اپناتے ہیں اور کچھ لوگ جھوٹ فریب مکاری اور چھل کپٹ کی راہ اپنا لیتے ہیں، آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگ یہی دوسرا راستہ اپنا رہے ہیں۔ نیتاجی، سردار پٹیل اور امبیڈکر سے اپنی عقیدت کا دکھاوا کرنے کی غرض سے وزیراعظم نے جس طرح کانگریس اور گاندھی ونہرو خاندان کو کوسا، اس سے ظاہر ہوگیا کہ ان شخصیات سے انہیں کچھ لینا دینا نہیں ہے، جو کچھ ہورہا ہے صرف اور صرف دکھاوا ہے البتہ ان کے ناموں کا استعمال کرکے وہ کانگریس اور گاندھی نہرو خاندان کی خدمات پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ضرور کررہے ہیں۔ وزیراعظم کی تاریخی معلومات کا حال یہ ہے کہ انہوں نے نیتاجی سے اپنی عقیدت کے جوش میں یہ بھی کہہ دیا کہ سوامی وویکا نند نے ان کی ذہنی تربیت کی تھی، حالانکہ نیتاجی کی پیدائش کے چند برس بعد ہی وویکا نند آنجہانی ہوگئے تھے۔ وزیراعظم بھول رہے ہیں کہ تاریخ کی سچائیاں طاقت کے زور سے مٹائی نہیں جاسکتیں اور نہ ہی چھل کپٹ سے کسی دوسرے کی وراثت پر قبضہ کیا جا سکتا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول