بی جے پی کا فرقہ وارانہ وائرس ملک کے لیے کورونا سے زیادہ خطرناک: ڈاکٹر ایوب

ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ بی جے پی کے پاس عوام کے مفاد میں کوئی ٹھوس پروگرام نہیں ہے اس لیے اب وہ فرقہ پرستی کے سہارے انتخاب میں کامیابی کا خواب دیکھ رہی ہے۔

ڈاکٹر ایوب، تصویر فیس بک
ڈاکٹر ایوب، تصویر فیس بک
user

یو این آئی

پرتاپ گڑھ: ملک کی پانچ ریاستوں میں آئندہ اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ان میں صرف پنجاب کے علاوہ چار ریاستوں میں بی جے پی برسرے اقتدار ہے۔ ان چار ریاستوں میں اقتدار میں واپسی اس مرتبہ آسان نظر نہیں آرہی ہے۔ بی جے پی کی خصوصی طور سے ساری توجہ اتر پردیش میں مرکوز ہے، جس کے سبب اس نے فرقہ پرستی کی بساط بچھانہ شروع کر دی ہے۔ چوں کہ بی جے پی اقتدار میں واپسی کے لیے ہر حربہ استعمال کر سکتی ہے، جس کا آغاز اس نے مبینہ جبراً مذہب تبدیلی و القائدہ کا آسیب لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ جبکہ ملک کے لیے کورونا سے زیادہ خطرناک بی جے پی کا فرقہ وارانہ وائرس ہے۔ پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے میڈیا کو جاری ریلیز میں مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ عوام کورونا وباء کے دوران حکومت کی نااہلی و ناقص کارکردگی سے مزید نالاں ہیں۔ کورونا کے اوقات میں بے شمار اموات جس کا اعداد شمار عیاں ہی نہیں کیا گیا اور حکومت نے کورونا وباء کے متاثرین کو ان کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔ سرکاری اسپتالوں میں دواوں و آکسیجن کے فقدان نے انسانی زندگی کو درہم برہم کر دیا، جس کے سبب عوام کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ بی جے پی کو عوام سے نہیں بلکہ اقتدار سے ہمدردی ہے۔ بی جے پی حکومت عوام مخالف پالیسیوں کے سبب مہنگائی و بے روزگاری نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ عوام پوری طرح مختلف مسائل کو لے کر مزید پریشان ہے، حکومت کے پاس مسائل کے تصفیہ کے لئے کوئی پروگرام نہیں، جس کے سبب غریب، مزدور و اوسط درجہ کے شخص کے سامنے ایک تاریکی ہے، وہ اس مہنگائی میں کیسے گزارہ کریں۔


ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ مذکورہ مسائل کے سب عوام میں بی جے پی کے تئیں ایک اشتعال ہے۔ انتخاب کو دیکھتے ہوئے خصوصی طور سے اترپردیش حکومت کے ذریعہ مبینہ جبرا تبدیل مذہب و القائدہ و دیگر دہشت گرد تنظیموں سے مبینہ تعلق رکھنے والے کئی لوگوں کی گرفتاری کا دعوی کیا جا رہا ہے۔ پنچایت انتخاب کے دوران مخالف پارٹیوں کی خاتون امیدوار کی سرعام ساڑی کھینچنے، اور تشدد کے سہارے خوفزدہ کرنے و اغوا کرنے والے کیا دہشت گرد نہیں ہیں؟ پر حکومت کے اشارے پر بی جے پی و ان کے حامیوں نے جو تشدد کا برہنہ رقص کیا ہے، کیا اس سے عوام واقف نہیں ہے؟ عوام کو سب کچھ معلوم ہے وہ انتخاب میں بی جے پی کو ضرور جواب دے گی۔ اچانک حکومت کو خیال آیا کہ ریاست میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس پر قانون لانا ضروری ہے۔

ڈاکٹر ایوب کا کہنا ہے کہ بی جے پی یہ پروپگنڈہ کرتی رہتی ہے کہ مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے سبب ہندووں کو اپنی آبادی بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ بی جے پی کے پاس عوام کے مفاد میں کوئی ٹھوس پروگرام نہ ہونے کے سبب اب وہ فرقہ پرستی کے سہارے انتخاب میں کامیابی کا خواب دیکھ رہی ہے۔ جس کے سبب اس نے فرقہ پرستی کی بساط بچھانہ شروع کر دی ہے، جو ایک سیکولر ملک کے لئے بہت خطرناک ہے۔ پیس پارٹی بی جے پی کے فرقہ پرستی کے مدے پر پوری طرح سنجیدہ ہے، وہ عوام کو بی جے پی کی جمہوریت و آئین مخالف ایجنڈے سے واقف کرانے کے لیئے تحریک کا آغاز کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔