پیگاسس معاملہ پر مشکل میں بی جے پی، نتیش کے بعد مانجھی نے بھی جانچ کا کیا مطالبہ

بہار میں برسراقتدار این ڈی اے میں شامل پارٹی جے ڈی یو لیڈر نتیش کمار کے پیگاسس معاملہ میں جانچ کرانے کی بات کہے جانے کے بعد منگل کو ’ہم‘ پارٹی سربراہ جیتن رام مانجھی نے بھی جانچ کا مطالبہ کر دیا۔

جیتن رام مانجھی، تصویر آئی اے این ایس
جیتن رام مانجھی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

بہار میں برسراقتدار این ڈی اے میں شامل پارٹی جنتا دل یو لیڈر اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے پیگاسس معاملہ میں جانچ کرانے کی بات کہے جانے کے بعد منگل کو ’ہم‘ یعنی ہندوستانی عوام مورچہ پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی نے بھی جانچ کا مطالبہ کر دیا۔ سابق وزیر اعلیٰ مانجھی نے منگل کو واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ ’’مجھے لگتا ہے موجودہ حالات کو دھیان میں رکھ کر پیگاسس جاسوسی معاملہ کی جانچ کرا لینی چاہیے۔‘‘

مانجھی نے اپنے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اگر اپوزیشن کسی معاملے کی جانچ کا مطالبہ کر لگاتار پارلیمنٹ کا کام متاثر کر رہا ہے تو یہ سنگین معاملہ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ موجودہ حالات کو دھیان میں رکھ کر پیگاسس جاسوسی معاملے کی جانچ کرا لینی چاہیے، جس سے ملک کو پتہ چل پائے کہ کون کن لوگوں کی جاسوسی کروا رہا ہے۔‘‘


بہار میں نتیش کمار کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت ہے، جس میں بی جے پی اور جنتا دل یو کے علاوہ ہم اور وکاس شیل انسان پارٹی بھی شامل ہے۔ اس سے قبل بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے پیر کے روز پیگاسس معاملہ کی جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کہا کہ اس معاملے میں پورے طور پر ایک ایک بات دیکھ کر مناسب قدم اٹھانا چاہیے۔

نامہ نگاروں کے ایک سوال کے جواب میں نتیش کمار نے کہا تھا کہ ’’آج کل تو جانتے نہیں کہ یہ سب چیز کئی طرح سے کون کر لے گا، اس پر پورے طور سے ایک ایک بات کو دیکھ کر مناسب قدم اٹھانا چاہیے۔ لیکن کیا ہوا ہے کیا نہیں، یہ پارلیمنٹ میں کچھ لوگ بول رہے ہیں اور اخبارات میں آ رہے ہیں، اسی کو ہم دیکھتے ہیں۔ جو بھی کچھ ہے اس پر پوری طرح سے جانچ ہونی چاہیے۔‘‘


نتیش کمار نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ’’کسی کو پریشان کرنے کے لیے اگر ایسا کوئی کام ہوتا ہے تو یہ ٹھیک نہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ جو بھی سچائی ہے، سامنے آ جائے۔ اس پر بحث ہو جانی چاہیے، جو بھی ہے صاف ہو جانا چاہیے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔