مذہب تبدیلی والے بیان پر ہنگامہ کے بعد بی جے پی رکن پارلیمنٹ تیجسوی کا ’یو-ٹرن‘

رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریا نے اپنے متنازعہ بیان کو واپس لیتے ہوئے کہا کہ ’’میری تقریر کے کچھ حصے نے افسوسناک طور پر ایک تنازعہ پیدا کر دیا ہے، اس لیے میں بلاشرط بیان واپس لیتا ہوں۔‘‘

تیجسوی سوریہ، تصویر ویڈیو گریب
تیجسوی سوریہ، تصویر ویڈیو گریب
user

قومی آوازبیورو

بنگلورو سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریہ کے شری کرشن مٹھ میں کی گئی تقریر پر تنازعہ پیدا ہونے کے بعد اب انھیں اپنا متنازعہ بیان واپس لینا پڑا ہے۔ رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریا نے ایک تقریب میں ہندوؤں سے ’بڑے خواب دیکھنے‘ اور پاکستانیوں کو ہندو مذہب میں واپس لانے کی بات کہی تھی۔

تیجسوی سوریا نے پیر کی صبح ایک ٹوئٹ کر اپنے بیان کو واپس لینے کا اعلان کیا۔ انھوں نے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’میری تقریر کے کچھ حصے نے افسوسناک طور سے ایک تنازعہ پیدا کر دیا ہے۔ اس لیے میں بلاشرط بیان واپس لیتا ہوں۔‘‘


25 دسمبر کو ہوئی ایک تقریب میں تیجسوی سوریا نے کہا تھا کہ ’’ہندوؤں کے سامنے اب صرف ایک ہی متبادل ہے کہ وہ ان سبھی لوگوں کو واپس ہندو مذہب میں داخل کریں جنھوں نے اپنا آبائی مذہب چھوڑ دیا ہے۔‘‘ وہ اتنے پر ہی خاموش نہیں ہوئے۔ انھوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’مندروں اور مٹھوں کا ہر سال کا ہدف طے ہونا چاہیے کہ انھوں نے کتنے لوگوں کا مذہب تبدیل کیا۔‘‘

تیجسوی سوریا نے تقریب میں کہا تھا کہ یہ صرف مسلمانوں یا عیسائیوں کو دوبارہ بدلنے جیسا نہیں ہے، بلکہ آج کے پاکستان کے مسلمانوں کو ہندو مذہب میں تبدیل کرنا ہماری ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ جب ایسا ہو جائے گا تو ہمارے جغرافیہ میں پاکستان واپس آ جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔