ناگالینڈ تشدد پر امت شاہ نے کیا گمراہ، استعفی دیں: کانگریس

ناگالینڈ تشدد پر سونیا گاندھی کی جانب سے تشکیل دی گئی تفتیشی کمیٹی کے رکن اجے کمار نے خصوصی پریس کانفرنس میں کہا کہ اس معاملہ پر امت شاہ نے جو بیان دیا ہے وہ جھوٹ اور گمراہ کرنے والا ہے۔

ناگالینڈ تشدد پر سکم، ناگالینڈ اور تریپورہ کانگریس کمیٹی کے انچارج اجوئے کمار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر یو این آئی
ناگالینڈ تشدد پر سکم، ناگالینڈ اور تریپورہ کانگریس کمیٹی کے انچارج اجوئے کمار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس نے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے ناگالینڈ میں اس مہینے کی شروعات میں ہوئے تشدد پر پارلیمنٹ میں غلط بیان دیا ہے اور ملک کو گمراہ کیا ہے اس لئے جھوٹ بولنے کے لئے انہیں استعفی دے دینا چاہئے اور اس معاملہ کی گوہاٹی ہائی کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات ہونی چاہئے۔

ناگالینڈ تشدد پر کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی جانب سے تشکیل دی گئی تفتیشی کمیٹی کے رکن اجے کمار نے اتوار کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں خصوصی پریس کانفرنس میں کہا کہ اس معاملہ پر امت شاہ نے جو بیان دیا ہے وہ جھوٹ اور گمراہ کرنے والا ہے۔


امت شاہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جس گاڑی پر گولیاں چلائیں گئی اس میں دہشت گرد ہونے کی اطلاع ملی تھی اس لئے گولی چلائی گئی، جبکہ گاوں والوں کا کہنا ہے کہ گاڑی میں کانوں میں کام کرنے والے گاوں کے لوگ تھے اوران کی گاڑی کو دھماکہ کرکے اڑا دیا گیا تھا۔

اجے کمار نے کہا کہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں کہا کہ انہوں نے معاملہ کی خصوصی تفتیشی ٹیم۔ ایس آئی ٹی سے جانچ کرانے کی ہدایت دی ہے، جبکہ ایس آئی ٹی کے قیام کا آرڈر ناگالینڈ حکومت نے دیا تھا۔ کانگریس کے لیڈر نے واقعہ میں مارے گئے لوگوں کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے اور زخمیوں کو دس دس لاکھ روپے معاوضہ دینے کی مانگ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت نے پانچ پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے لیکن متاثرین نے اسے لینے سے منع کر دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔