دہلی یونیورسٹی ٹیچر ایسو سی ایشن الیکشن میں بی جے پی کو لگا جھٹکا

دیال سنگھ کالج کے ٹیچر اور بی جے پی حمایت یافتہ بھاگی کو 3481 ووٹ ملے جبکہ بائیں بازو کے راجیو نے 3750 ووٹ حاصل کئے۔ ڈی یو ٹی اے انتخابات میں کل ووٹ 7748 پڑے جن میں 518 ووٹ منسوخ ہو گئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: کروڑی مل کالج کے ٹیچر اور باصلاحت بائیں بازو لیڈرراجیو رے ایک مرتبہ پھر دہلی یونیورسٹی ٹیچر ایسوسی ایشن کے صدر منتخب کر لیے گئے ہیں۔ جمعرات کو ہوئے دہلی یونیورسٹی ٹیچرایسوسی ایشن (ڈی یو ٹی اے) کے انتخابات میں بائیں بازو کی دوبارہ جیت ہوئی ہے ۔ تازہ نتیجہ کے بعد ڈی یو ٹی اے میں مسلسل چھٹی مرتبہ ڈیموکریٹک ٹیچر فرنٹ کا امیدوار صدر منتخب ہوا ۔ جمعہ کو علی الصبح اختتام ہوئی ووٹوں کی گنتی میں راجیو رے نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حمایت یافتہ این ڈی ٹی ایف امیدوار اے کے بھاگی کو 269 ووٹ سے شکست دی ۔

دیال سنگھ کالج کے ٹیچربھاگی کو 3481 ووٹ ملے، جبکہ راجیو نے 3750 ووٹ حاصل کئے ۔ ڈی یو ٹی اے انتخابات میں کل ووٹ 7748 پڑے جن میں 518 ووٹ منسوخ ہو گئے۔مجلس عاملہ کے انتخابات میں پندرہ امیدوار کامیاب ہوئے جن میں این ڈی ٹی ایف کے چار، ڈی ٹی ایف اور آدتیہ نارائن مشرا گروپ (اڈ) کے تین تین اور انٹیک کے دو امیدوار وں نے جیت حاصل کی ہے ۔

اس نتیجہ کو دیکھنے سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ بائیں بازوں اور کانگریس اتحاد کا پلڑا بھاری رہا ۔ مرانڈا کالج کی ٹیچر اور ڈي ٹی ایف امیدوار ابھا دیو حبیب سب سے زیادہ 9057 ووٹ حاصل کر کے منتخب ہوئیں۔ این ڈی ٹی ایف کے مہندر کمار مینا 8168 ووٹ حاصل کر کے دوسرے مقام پر رہے جبکہ آدتیہ نارائن مشرا گروپ کے آلوك رنجن پنڈيا 7002 ووٹ کے ساتھ تیسرے مقام پر رہے۔ سماجوادی لیڈر ششی شیکھر الیکشن ہار گئے ۔ مجلس عاملہ کے انتخابات میں جیت حاصل کرنے والوں میں وویک چودھری، پریم چند، وی ایس دیکشت، راہل کمار، روی کانت، راجندر سنگھ، جتیندر کمار مینا، ترون کمار گرگ، ادھے ویرسنگھ، پپو مینا اور اہل کے مینا شامل ہے ۔