بابری مسجد انہدام معاملہ میں بی جے پی لیڈران سی بی آئی عدالت میں ہوئے پیش

رام ولاس ویدانتی نے عدالت کے باہر کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کا خواب سبھی کا ہے۔ یہ مندر ملک کا سب سے اونچا مندرہونا چاہیے۔ جو گرایا گیا وہ سپریم کورٹ کے مطابق متنازعہ ڈھانچہ تھا، بابری مسجد نہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لکھنو: ایودھیا میں 6 دسمبر 1992کو متنازعہ ڈھانچہ (بابری مسجد) گرائے جانے کے معاملہ میں جمعرات کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ونے کٹیار، رام ولاس ویدانتی سمیت چھ لیڈر مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی عدالت میں پیش ہوئے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق آئندہ اگست تک سی بی آئی کو اس معاملہ میں فیصلہ دینا ہے۔ متنازعہ ڈھانچہ گرائے جانے کے معاملہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، کلیان سنگھ، اوما بھارتی سمیت 32 لوگ ملزم ہیں۔ معاملہ میں مجموعی طور پر 49 ملزم تھے لیکن شیوسینا کے بال ٹھاکرے، وشو ہندو پریشد کے صدر اشوک سنگھل سمیت 17 کی موت ہوگئی ہے۔

سی بی آئی کی عدالت میں آج حاضر ہوئے لیڈر پچھلی تاریخ کو لاک ڈاؤن کے سبب نہیں آسکے تھے۔ سی بی آئی نے ان ملزمین کے خلاف 354 گواہ پیش کیے تھے۔ ان تمام کی گواہی کی بنیاد پر سی بی آئی نے ایک ہزار سے زیادہ سوال تیار کیے ہیں۔ ویدانتی نے عدالت کے باہر کہا کہ ایودھیا میں شاندار رام مندر کا خواب تمام لوگوں کا ہے۔ یہ مندر ملک کا سب سے اونچا مندرہونا چاہیے۔ جو گرایا گیا وہ سپریم کورٹ کے مطابق متنازعہ ڈھانچہ تھا، بابری مسجد نہیں۔ جو گرا وہ رام للا کے مندر کا کھنڈر تھا۔ کھدائی میں کیا ملا اسے تمام نے دیکھا ہے۔ پہلے بھی وہاں مندر تھا اور اب بھی شاندار مندر کی تعمیر کی تیاری ہے۔ ویدانتی اب کل اپنا بیان درج کرائیں گے۔ انہوں نے اپنا بیان آج درج نہیں کرایا۔