بی جے پی لیڈر راجیو بنرجی اور تریپورہ بی جے پی کے رکن اسمبلی ترنمول میں شامل

آشیش داس نے الزام لگایا کہ لوگوں نے بڑے وعدوں پر یقین کرتے ہوئے بی جے پی کو ووٹ دیا، لیکن پچھلے چار برسوں میں یہ ثابت ہو گیا کہ پارٹی میں کوئی جمہوریت اور نظم و ضبط نہیں ہے۔

تصویر ٹوئٹر @AITCofficial
تصویر ٹوئٹر @AITCofficial
user

یو این آئی

اگرتلہ: ممتا بنرجی حکومت میں وزیر جنگلات رہے اور گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہو چکے رجیو بنرجی اتوار کے روز تریپورہ کے بی جے رکن اسمبلی آشیش داس اور دو دیگر سینئر لیڈروں کے ساتھ یہاں ترنمول پارٹی میں شامل ہو گئے۔

ممتا بنرجی کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی کے ساتھ اسٹیج شئیر کرتے ہوئے راجیو بنرجی نے بی جے پی میں شامل ہونے کے اپنے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل ترنمول چھوڑنا ان کی غلطی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں بی جے پی کے ساتھ اچھے کیریئر کی امید کر رہا تھا، لیکن میں نے اپنے مختصر سے وقت میں پایا کہ پارٹی ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جو لوگوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ فرقہ وارانہ نفرت اور انتقام گیری کی سیاست بی جے پی کا بنیادی اصول ہے جس کی ہم کبھی حمایت نہیں کرتے‘‘۔


انہوں نے کہا کہ ’’مغربی بنگال کے انتخابات سے پہلے میں بھی تریپورہ جیسی ڈبل انجن سرکار قائم کرنے کے لیے بی جے پی کے لیے ووٹ مانگ رہا تھا۔ لیکن مجھے آج خوشی ہے کہ لوگوں نے اسے مسترد کر دیا، ورنہ بنگال کے لوگ تریپورہ جیسا ہی محسوس کر رہے ہوتے۔ آج ترنمول میں واپس آ کر اپنے گناہ کا کفارہ ادا کروں گا۔

اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے تریپورہ کے رکن اسمبلی آشیش داس نے کہا کہ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے بی جے پی کے نظریے پر یقین رکھتے ہوئے ریاست میں بائیں محاذ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ سال 2015 میں ضلع دھلائی کے سورما حلقہ کے ضمنی انتخاب میں انہوں نے بی جے پی کے امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا، لیکن وہ ناکام رہے۔ 2018 کے اسمبلی انتخابات میں انہوں نے دوبارہ الیکشن لڑا اور بی جے رکن اسملبلی کے طور پر جیت حاصل کی۔


آشیش داس نے الزام لگایا کہ ’’لوگوں نے بڑے وعدوں پر یقین کرتے ہوئے بی جے پی کو ووٹ دیا، لیکن پچھلے چار برسوں میں یہ ثابت ہو گیا کہ پارٹی میں کوئی جمہوریت اور نظم و ضبط نہیں ہے۔ بپلب کمار دیب اپنی پارٹی کے اراکین اسمبلی، لیڈروں اور ووٹروں سمیت تریپورہ کے لوگوں کے لیے ایک شیطان بن گئے ہیں۔ ایک رکن اسمبلی کی حیثیت سے مجھے بار بار ذلیل کیا گیا کیونکہ میں نے پارٹی کے مفاد کے لیے وزیر اعلیٰ کے بہت سے غلط فیصلوں کو بے نقاب کیا تھا‘‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔