مہاراشٹر: کسی خاص مقصد سے 80 گھنٹے کے وزیر اعلیٰ بنے تھے فڑنویس، بی جے پی لیڈر کا انکشاف!

اننت ہیگڑے کا کہنا ہے کہ مرکز نے مہاراشٹر کو 40 ہزار کروڑ روپے دیئے تھے۔ اگر کانگریس-این سی پی-شیوسینا کی حکومت آتی تو وہ اس رقم کا غلط استعمال کرتی، اس لیے فڑنویس کو وزیر اعلیٰ بنانے کا ڈرامہ ہوا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

بی جے پی کے سینئر لیڈر اننت ہیگڑے نے مہاراشٹر کی سیاست میں گزشتہ دنوں ہوئی اتھل پتھل کو لے کر ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔ ہیگڑے نے کہا کہ ’’آپ سبھی جانتے ہیں کہ مہاراشٹر میں ہمارا آدمی 80 گھنٹے کے لیے وزیر اعلیٰ بنا۔ پھر، فڑنویس نے استعفیٰ دے دیا۔ انھوں نے یہ ڈرامہ کیوں کیا؟ کیا ہمیں نہیں پتہ تھا کہ ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے اور پھر بھی وہ وزیر اعلیٰ بنے۔ یہ سوال ہر کوئی پوچھ رہا ہے۔‘‘

اننت ہیگڑے نے مزید کہا کہ ’’مرکز سے مہاراشٹر کو 40 ہزار کروڑ روپے پہنچے تھے۔ ہمیں یہ پتہ تھا کہ اگر کانگریس-این سی پی-شیوسینا کی حکومت آئی تو وہ اس رقم کا غلط استعمال کرے گی۔ اس لیے یہ طے کیا گیا کہ ایک ڈرامہ ہونا چاہیے۔ فڑنویس وزیر اعلیٰ بنے اور انھوں نے 15 گھنٹے کے اندر 40 ہزار کروڑ روپے مرکزی حکومت کو لوٹا دیئے۔‘‘

غور طلب ہے کہ 22 نومبر کی رات کو کانگریس، این سی پی اور شیوسینا کے ذریعہ یہ کہنے پر کہ وہ مہاراشٹر میں حکومت بنانے جا رہی ہے، اس کے اگلے دن ہی یعنی 23 نومبر کو اجیت پوار کی حمایت سے بی جے پی نے مہاراشٹر میں حکومت تشکیل کر لی تھی۔ صبح صبح دیویندر فڑنویس نے وزیر اعلیٰ اور اجیت پوار نے نائب وزیر اعلیٰ کا حلف لیا تھا۔ فڑنویس نے ایسے وقت میں وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیا تھا، جب یہ بالکل صاف ہو گیا تھا کہ بی جے پی کے پاس اکثریت کا نمبر نہیں ہے۔ شیوسینا نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ کسی بھی قیمت پر بی جے پی کو حمایت نہیں دے گی۔

دیویندر فڑنویس کے ذریعہ وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے کے بعد بی جے پی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس 170 سے زیادہ نمبر ہیں۔ کانگریس، این سی پی اور شیوسینا کی جانب سے گورنر کے فیصلے پر سوال کھڑے کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ایک عرضی لگائی گئی تھی۔ عرضی میں گورنر کے ذریعہ بی جے پی کو حکومت بنانے کی دعوت دینے کے فیصلے پر سوال کھڑے کیے گئے تھے۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ 24 گھنٹے کے اندر مہاراشٹر اسمبلی میں فلور ٹسٹ کرایا جانا چاہیے تھا۔ اپوزیشن نے عدالت سے کہا تھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو بی جے پی جوڑ توڑ کی سیاست کرے گی۔ اتوار اور پیر کو سماعت کے بعد منگل کو سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔ عدالت نے 24 گھنٹے کے اندر بی جے پی سے اکثریت ثابت کرنے کے لیے کہا تھا۔ لیکن اکثریت ثابت کرنے سے پہلے ہی دیویندر فڑنویس نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ان کے پاس اکثریت کے لیے ضروری نمبر نہیں ہیں، اس لیے وہ استعفیٰ دے رہے ہیں۔ بی جے پی لیڈر اننت ہیگڑے نے اپنے بیان میں انہی واقعات کا تذکرہ کیا ہے۔

دوسری طرف دیویندر فڑنویس نے بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر اننت ہیگڑے کے بیان کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے کوئی ایسا فیصلہ نہیں لیا ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد پالیسی پر مبنی کوئی بھی بڑا فیصلہ انھوں نے نہیں لیا اور جو بھی الزام ان پر عائد کیا گیا ہے وہ پوری طرح سے غلط ہے۔

Published: 2 Dec 2019, 2:11 PM